Six Covenants of the Prophet in Urdu

محمد رَّسُول اللہ (ﷺ) کے معاصر نصاریٰ سے شش معاہدات

بنیادی دستاویزات

مرتب

ڈاکٹر جوہن اندرو مورو

الیاس عبد العلیم اسلام

اردو ترجمہ

ڈاکٹر حافظ خورشید احمد قادری

ڈاکٹر محمد ضیاءالمصطفی قصوری

نظر ثانی

پروفیسرڈاکٹر محمد سلطان شاہ

© John Andrew Morrow, 2020

The Covenants of the Prophet Foundation

2415 Hobson Road

Fort Wayne, Indiana

United States, 46805

http://www.covenantsoftheprophet.org

http://www.johnandrewmorrow.com

You may download this work and share it with others so long as you credit the source completely. You cannot change this work in any way nor can you use it commercially.

Attribution-NonCommercial-NoDerivs CC BY-NC-ND

فہرست

 باب اول: محمد رسول اللہ (ﷺ) کا کوہِ سینا کے راہبوں کے ساتھ معاہدہ

باب دوم: محمد رسول اللہ (ﷺ) کا ایرانی عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ

باب سوم: محمد رسول اللہ (ﷺ) کا نصاریٰ ِنجران کے ساتھ معاہدہ

باب چہارم: محمد رسول اللہ (ﷺ) کا عالم عیسائیت کے ساتھ معاہدہ

(مخطوطہ کارمل پہاڑ                       ( باب پنجم: محمد رسول اللہ (ﷺ) کا عالم عیسائیت کے ساتھ معاہدہ

(مخطوطہ قاہرہ                          ( باب ششم:محمدرسول اللہ (ﷺ) کا اشوریہ کے ساتھ معاہدہ

باب ہفتم: محمد رسول اللہ (ﷺ) کا عالم عیسائیت کے ساتھ

معاہدات، تصدیقات

باب اول

محمدرسول اللہ (ﷺ) کا کوہ سیناء کے راہبوں کے ساتھ معاہدہ

محمد رسول اللہ کی طرف سے

اللہ کے نام سے جو رحمن ، رحیم ہے۔

محمد بن عبد اللہ (ﷺ) کی طرف سے تمام عیسائیوں کے لیے لکھے گئے معاہدہ کی نقل

یہ معاہدہ پیغمبر خدا محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے تمام انسانوں کے لیے تحریر فرمایا ہے جو بشیر و نذیر ، مخلوق خدا میں اس کی امانتوں کے امین ہیں، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے، وہ غالب حکمت والا ہے۔

یہ معاہدہ حارث بن کعب، ان کے ہم مذہب، اور ان کےلئے جو، روئے زمین کے شرق و غرب ، دور و نزدیک، عربی و عجمی ، معروف و غیر معروف عیسائیت سے نسبت رکھنے والوں کے لیے خط لکھا جسے معاہدہ قرار دیا گیا۔

جس نے اس کی حفاظت کی وہ اسلام سے وابستہ ہو گا، اور اس کی بھلائی کا مستحق ہو گا۔ اورجس نے اسے ضائع کیا، اور اس عہد کو توڑا، اس میں تبدیلی کی، اور اللہ تعالیٰ کے عہد کے لیے جو اسے حکم دیا گیا ہے، زیادتی کا ارتکاب کرے،خواہ وہ سلطان ہو یا کوئی اور مسلمان مومن ہو،وہ اللہ کے عہد کو توڑنے ، اس کے دین سے استہزاءکرنے والا ہے، وہ لعنت کا مستحق ہو گا۔

میں بھی اسی عہد کا پابند ہوں جس اللہ کے عہد و میثاق کا میں انہیں پابند کر رہا ہوں اور میں انہیں اولین و آخرین اس کے انبیاءو اصفیاء اہل ایمان و اسلام کی طرف سے حفاظت میں دیتا ہوں، یہ میری حفاطت میں ہوں گے۔

سب سے زیادہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر لازم کی وہ اطاعت گزاری، فرض کا ایثار، اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرنا ہے۔ کہ میں اپنے گھڑ سوار،پیادہ فوج، ا سلحہ و طاقت،اور پیروکاروں کے ساتھ دشمن کے ہر علاقے میں ، وہ دور ہوں یا نزدیک ، حالت امن میں ہوں یا جنگ میں، ان کی حفاظت کروں۔

میں ان کی سرحدکی حفاظت کروں ، ان سے تکلیف کا ازالہ کروں، ان کے کلیساؤں، گرجوں، عبادت گاہوں، راہبوں کے مقامات،سیاحوں کے مقامات کی ، وہ پہاڑ، وادی، آبادی، میدان و ریگستان جہاں بھی ہوں، حفاظت کروں گا۔

وہ بحر و بر، شرق و غرب جہاں بھی ہوں ان کے دین و ملت کی حفاظت کروں گا۔اس (معاہدہ) کے ذریعے میں اپنی ، اپنے خواص، اور اہل اسلام کی حفاظت کروں گا۔

اگر کوئی راہب ، سیاح، پہاڑ، وادی، آبادی، میدان و ریگستان،یاکسی کلیسا میں پناہ لے، تو میں ان کے ساتھ ہوں، ہر دشمن سے بذات خود، اپنی ساتھیوں ، دینداروں اور پیروکاروں کے ساتھ دفاع کرنے والا ہوں، کیونکہ وہ میری رعایا اور میری زیر حفاظت میں ہیں۔

میں ضروریات میں جن کا تعلق معاہدہ کاروں کے خراج کی ادائیگی سے ہے، ان سے تکالیف کو دور کروں گا۔مگر جو وہ بخوشی دیں، ان پر کسی طرح کا کوئی جبر ہو گا ، نہ مجبور کیا جائے گا۔

کسی پادری کو اس کے دینی معاملات سے، کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے، نہ کلیسا میں براجمان کو، نہ کسی سیاح کو اس کی سیاحت سے، نہ بدلا اور ہٹایا جائے گا۔ نہ کسی کلیسا اور گرجا کو گرایا جائے گا ، اور نہ کلیسا کی ملکیت کسی چیز کو مسجد تعمیر کرنے یا مسلمانوں کے گھر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔جس نے ایسا کیا تو یقینا اس کے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور رسول اللہ (ﷺ) کی مخالفت کی۔

راہبوں اور پادریوں ، نہ کسی عبادت گزار پر کوئی ٹیکس یا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔وہ بحر و بر،شرق و غرب،شمال و جنوب میں جہاں کہیں بھی ہوں میں ان کے حقوق کا محافظ ہوں۔ اور وہ ہر طرح کے شر و مصیبت سے میری حفاظت، عہد اور امان میں ہیں۔

اسی طرح جو پہاڑوں یا مقامات مقدسہ میں عزلت نشینی اختیار کر لیں، ان کی زراعت پر کوئی عشر و خراج نہیں ہے۔

ان پر کسی جنگ حصہ لینا بھی ضروری نہیں ہو گا، نہ کوئی جزیہ عائد ہو گا۔ نہ اہل خراج، مال ، جائیداد، تجارت سے بارہ درہم سے زائد سالانہ کوئی جزیہ لیا جائے گا۔

ان میں سے کسی کوحد سے زیادہ مکلف نہیں بنایا جائے گا، اور نہ اہل کتاب سے بحث و تکرار ہو گی مگر جو بات ہو بہتر انداز میں ہو گی۔وہ جہاں بھی ہوں،ان کے ساتھ نرم برتاؤکیا جائے گا، شر کو دور کیا جائے گا۔

اگر کوئی نصرانی خاتون کسی مسلمان کے پاس ہو تو اس پر اس عورت کی رضا و خوشنودی ضروری ہے۔ اور اسے گرجا میں عبادت کرنے دی جائے۔اس کے اور اس کے دین میںحائل نہ ہو۔ اور جس نے اللہ کے عہد کی مخالفت کی اور اس کے برعکس کیا تو گویا اس نے معاہدہ اور اپنے رسول کی نافرمانی کی۔

ان کے گرجا، اور مقامات کی مرمت میں ان سے تعاون کیا جائے گا۔ یہ ان کے دینی معاملات اور عہد کی پاسداری کے لیے ان کی معاونت ہو گی۔

ان کے لیے ہتھیار اٹھانا ضروری نہیں ہو گا بلکہ مسلمان ان کی حفاظت کریں گے اور قیامت تک اور رہتی دنیا تک اس عہد کی کبھی مخالفت نہیں کریں گے۔

اس معاہدہ کو جو محمد بن عبد اللہ (ﷺ) نے تمام نصاریٰ کے لیے تحریر فرمایا ہے، اور جس کی تمام شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، کی گواہی دینے والوں کے نام درج ذیل ہیں۔

گواہوں کے نام

علی بن ابی طالب، ابوبکر بن ابی قحافہ، عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان، ابو الدرداء، ابو ہریرہ، عبد اللہ بن مسعود، عباس بن عبد المطلب، حارث بن ثابت، عبد العظیم بن حسن، فضیل بن عباس، زبیر بنالعوام، طلحہ بن عبد اللہ، سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ، ثابت بن نفیس، زید بن ثابت، ابوحنیفہ بن عبیّہ، ہاشم بن عبیّہ، معظم بن قرشی، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، عامر بن یاسین۔

اس معاہدہ کو علی بن ابی طالب نے اسے اپنے خط سے مسجد النبی (ﷺ) نے ۳محرم ۲ ہجری میں تحریر کیا۔اور اس کے نسخہ کو سلطان(حاکم) کے خزانہ (الماری) میں بطور امانت رکھاگیا۔اور اس پر جناب نبی کریم علیہ السلام کی مہر ثبت کی گئی۔اسے طائف کے چمڑے کی جلد پر لکھا گیا۔

نوید اور خوشخبری اس کے لیے جس نے اس معاہدہ پر عمل کیا اور اس کی شرائط کے ساتھ اس پرعمل کیا۔ اور وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنے رب کی بخشش کے امیدوار ہو گا۔

اصل سے منقول یہ نسخہ ہے جو سلطان کے دستخط سے محفوظ ہے۔یہ نسخہ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے نسخہ سے نقل کیا گیا ہے۔

سلطان معظم کا حکم اللہ تعالیٰ کی مدد سے یہ ہمیشہ نافذ رہا۔ امیر المؤمنین کے خط سے تحریر کردہ نسخہ ضائع ہو جانے کی وجہ سے،اسے جبل طور سیناءکے مکین راہبوں کے ایک گروہ کے پاس رکھا گیاتاکہ یہ راہبوں کی جماعت کے پاس شاہی نسخہ جس کی شہادت دے رہا ہے، اس پر سند رہے۔

نقل جو اصل سے بغیر کسی کمی و بیشی سے منقول ہے۔

اسے بندہ ضعیف قاضی مصر نوح بن احمد الانصاری نے تحریر کیا۔

گول مہر سے مستند

اسے کی ثقاہت اس طرح ہے

نوح بن احمد الانصاری

مہر کی شکل میں دستخط

تحریر کردہ: قاضی قدیم مصرفقیر محمد غفر لہ

باب دوم

محمد رسول اللہ (ﷺ) کا ایرانی عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ

(محمد رسول اللہ (ﷺ) کی طرف سے جسے لیون آرپی نے 1946 میں بیان کیا)

اللہ کے نام سے جو رحمن ، رحیم ہے

یہ تحریر ی فرمان سب کے علم میں ہونا چاہیے اور وہ انداز جو اس پختہ معاہدے اور سمجھوتے کا ہے، دنیا بھر میں رہنے والی تمام عیسائی اقوام کو اس کی پابندی کرنی ہوگی، خواہ وہ عالم عرب کے مشرق اور ایران یا ان کے زیرِ انتظام علاقوں میں رہتے ہوں، یا وہ اہلِ ایمان کے قریبی یا دور کے علاقوں میں رہتے ہوں چاہے اہلِ ایمان کے ساتھ ان کی واقفیت ہو یا نہ ہو۔یہ معاہدہ اور میثاق اس لائق ہے کہ اس کی پابندی کی جائے اور تمام اہلِ ایمان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ اس کی شقوں کی پیروی کریں۔ جو کوئی بھی اس کو محترم سمجھتا ہے اس کا لازمی فریضہ ہے کہ وہ اس معاہدہ کے الفاظ کی تعمیل کری۔صالحین کی جماعت کے بعد اسی کا عقیدہ کامل ہے اس طرح وہ جزائے خیر کا مستحق ہو جائے گا لیکن وہ جو جان بوجھ کر اس معاہدہ کے الفاظ سے پہلو تہی کر یں گی، انھیں منسوخ کریں گے یا اس سے نفرت کر یں گے یا معاہدہ کے احکامات کی حکم عدولی کریں گے اور اپنی مخالفانہ روش کو برقرار رکھیں گے اس قبیل کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے معاہدہ اور میثاق کو مسترد کرنے والا سمجھا جائے گا۔ جو کوئی بھی اس حکم کی تحقیر یا بے ادبی کرے گا اسے سزا کا مستحق جانا جائے گا۔ خواہ وہ بادشاہ ہو یا عوام الناس میں سے کوئی ہو، چاہے وہ ایک مومن صالح ہو (یعنی ایک مسلمان) یا صرف اللہ کو ماننے والا (یعنی ایک عیسائی)۔

اب اس معاہدہ کے ابتدائی الفاظ کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کے مطابق ______جو اس نے مجھے عطا فرمائی _______یہ بات مصدقہ ہے کہ میں نے اس معاہدہ کو ایک پختہ بندھن بنا دیا ہے۔ ماضی کے کسی رسول نے ایسا معاہدہ نہیں کیا۔ بارگاہ ِ الٰہی میں ایستادہ کوئی فرشتہ بھی اس کے انتظام کو آسان نہیں سمجھتا۔ اس طرح اس معاہدے کے الفاظ جو میں ابھی لکھوانے والا ہوں ،میری امت کے تمام لوگ اس کی لازمی تعمیل کریں گی۔

تمام مومنینِ صالحین عیسائیوں کی حفاظت کو اپنا لازمی فریضہ سمجھیں گی، وہ دور یا نزدیک جہاں کہیں بھی ہوں ان کی مدد کی جائے گی ،اور پوری دنیائے عیسائیت میں ان کی عبادت گاہوں ، راہبوں اور پادریوں کی جائے سکونت کی حفاظت کی جائے گی۔ پہاڑوں ، میدانوں، قصبوں، غیر آباد جگہوں، صحراوں، اور جہاں کہیں بھی وہ ہوں ،ہر جگہ ان لوگوں کو تحفظ دیا جائے گا۔ مشرق اور مغرب دونوں سمتوں میں ، سمندر اور خشکی دونوں جگہ انکے عقیدہ اور جائیداد کی حفاظت کی جائے گی۔

کیوں کہ وہ میرا احترام ملحوظ رکھتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ ان لوگوں کا دھیان رکھیں کیوں کہ وہ ہمارے زیرِ حفاظت لوگ ہیں۔ اور جب کبھی کوئی مشکل یا پریشانی ان پر غلبہ پا لے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان کی مدد اور دیکھ بھال کو اپنا لازمی فریضہ سمجھیں کیوں کہ وہ میری امت کی رعایا ہیں اور ان کے تابع فرمان ہیں اس لیے مسلمان ان کے مدد گار ہیں۔ میری پیروی کے لیے مناسب ترین بات یہ ہے کہ ان کی سہولت و آرام کا خیال رکھا جائی۔ تمام مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود ان کی حفاظت اور مدد کی جائے ہر اس چیز کی سرکوبی کر دی جائے جو ان کے استحصال کا سبب ہو۔ جزیہ اور خراج عاید کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ذمیوں کی قوت ادائیگی سے زیادہ جزیہ عاید نہ کیا جائے بلکہ تشدد اور قوت کے استعمال کے بغیر معاملات کو ان کی رضا مندی کے ساتھ نپٹایا جائی۔ ان کی عمارتوں میں مداخلت بے جا نہ کی جائی۔ ان کے پادریوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے حوالہ سے پریشان نہیں کیا جائے گا۔ ان کو ان کے عقیدہ اور رسوم و روایات کی وجہ سے ستایانہیں جائے گابلکہ انھیں اپنی مرضی اور آداب کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کی اجازت دی جائے گی۔ ان کے گرجوں کو گرایا جائے گا اورنہ انہیں تباہ کیا جائے گا۔

مسلمان ان کی منشاءکے بغیر ان کے گھروں اور حویلیوں کو مساجد یا رہائشی ضروریات کے لیے ضبط نہیں کریں گے جو کوئی یہاں بیاں کردہ طریقے کے مطابق طرزِ عمل اختیار نہیں کرے گا بلکہ میرے احکامات کے برعکس عمل کرے گا ،اسے اس معاہدہ کا مخالف گردانا جائے گا اور اللہ اور اس کے رسول کے الفاظ کا منکر سمجھا جائے گا۔ ان سے کسی بھی زمین کا چار دینار یا (لینن) کورے لٹھے کی ایک چادر سے زیادہ خراج نہیں لیاجائے گا، جسے ایک مقدس عوامی امانت کی طرح مسلمانوں کی بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔

جو کچھ ہم نے بیاں کیا اس کے علاوہ انفرادی جزیہ کے حوالہ سے کچھ بھی مزید ان سے نہیں لیا جائے گا۔ خواہ وہ دولت مند تاجر ہوں یا کھلے میدانوں میں رہنے والے ، چاہے وہ سمندر سے موتی تلاش کرنے والے یا قیمتی پتھروں یا سونے چاندی کی کانوں کے مالک ہوں یا دیگر قیمتی جائیدادوں کے مالک ، انھیں بھی بارہ درہم سے زیادہ ادائیگی کے لیے نہیں کہا جائے گا۔وہ جن کا عقیدہ عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ عیسائی رسوم و آداب کے مطابق عبادت کرتے ہیں ان سے چار درہم لیے جائیں گی۔ لیکن ان کے لیے جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے الفاظ کی اتباع کرتے ہیں، ان سے مذکورہ بالا بارہ درہم سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ بشرطیکہ ان کی رہائش اپنے لوگوں کے پاس ہی ہو۔ وہ جو مسافرت میں رہتے ہیں اور جن کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا ان سے زمینی خراج نہیں لیا جائے گا۔سوائے اس صورت کے کہ ان میں سے کسی کو ایسی وراثتی جائیداد ملے جس پر امام کا قانونی دعویٰ ہو، اس سے قانونی خراج وصول کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ذمی کو نشانہ ستم نہیں بنایا جائے گا اس سے اس کی قوتِ ادائیگی سے زیادہ اور نہ ہی غیر قانونی جزیہ لیا جائے گا۔ اس کی حویلیوں ، پیداوار اور پھلوں کو نشانہ حرص نہیں بنایا جائے گا۔

عیسائیوں کو مسلمانوں کی خاطر دشمنان دین کے خلاف جنگ کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ نہ ہی بیرونی طاقتوں کے خلاف برسرپیکار یا قتلِ عام کا نشانہ مسلمان عیسائیوں کو مجبور کریں گے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھیں لیکن اگر دشمن عیسائیوں پر حملہ کرے گا تو مسلمان اپنی تلواروں اور نیزوں کو اس کے یا اس کے گھوڑوں کے خلاف استعمال کرنے میں رعایت نہیں کریں گی۔اس طرح کی دفاعی کا رروائی وہ بخوشی کریں گی۔

کسی عیسائی کو بزور قوت اسلام قبول نہیں کروایا جائے گا۔ کچھ بڑی چیزوں کے علاوہ عیسائیوں کے ساتھ نزاعات کو حیطہ خیال میں بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔ مسلمان ہر جگہ عیسائیوں کو استحصالی طاقتوں سے بچانے کے لیے ان پر اپنی مہربانی اور عنایت کا بازو پھیلائے رکھیں گی۔ اگر کوئی عیسائی جارحیت کا شکار پایا گیا تو مسلمان اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس کی مدد کریں گی۔ عدالتوں میں اس کا ساتھ دینگے تاکہ اللہ تعالیٰ کے عاید کردہ جزیہ سے زیادہ کا اس سے مطالبہ نہ کیا جاسکے اور اس نزاع کے دونوں فریقوں کے درمیان وحی الٰہی کے مطابق امن بحال کیا جائے گا۔

تمام مذکورہ بالا شرائط اور ان کی طرف سے ادا کئے جانے والے فی کس جزیہ کو برقرار رکھا جائے گا۔ وقتِ موجود سے وقتِ موعود تک نا تو میرے لوگ کسی عیسائی کو دہشت زدہ کریں گے یا ظلم کانشانہ بنائیں گے اور نہ ہی عیسائی مسلمانوں کو دہشت زدہ کریں گے یا ظلم کا شکار بنائیں گی۔ مسلمان عیسائی عورتوں اورکنواریوں کو بزورِ قوت نہیں صرف ان کے آقاوں کی مرضی سے حاصل کریں گی۔ جب خواتین کی آزادیِ رائے کا احترام کیا جائے گا اور ان کو اجازت دی جائے گی کہ وہ اس معاملے میں آزاد ہیں کہ وہ جسے پسند کریں اس سے شادی کر لیں تب عیسائی خواتین اپنی آزادانہ مرضی سے جس مسلمان سے عاضی طور پر یا مستقل بنیادوں پر نکاح کرنا چاہیں ،کر سکیں گی۔ اگر کوئی عیسائی خاتون ایک مسلمان سے شادی کرے گی تو اسے اس بات کی اجازت ہو گی کہ وہ اپنے عیسائی عقیدہ کو برقرار رکھی، بغیر کسی رکاوٹ یامزاحمت کے گرجا گھر میں حاضری دے سکے اور بطیبِ خاطر اپنے عقیدہ اور قوانین کے مطابق زندگی بسر کری۔ نا تو اس کے روحانی ناصحین اور اس کے درمیان گفتگو میں کسی رکاوٹ کو حائل ہونے دیا جائے گا اور نا ہی اس کی مرضی کے خلاف زور زبر دستی سے اسے اپنے عقیدہ اور قوانین سے دست کش ہونے کے لیے کہا جائے گا۔ جوکوئی بھی اس معاہدہ کے الفاظ کی خلاف ورزی کرے گا اسے منشائے الہٰی کا مخالف اور رسول اللہ (ﷺ) کے معاہدہ کے نسخ کا مجرم گردانا جائے گا۔ اس طرح کے فرد کا شمار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے گناہ گاروں میں کیاجائے گا۔

عیسائیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے بڑے چھوٹے گرجا گھروں اور خانقاہوں کی مرمت میں خود حصہ لیں ۔اگر فیض رساں مسلم عوام اور ان کے عقیدے کے مفاد میں ہو، مسلمان عیسائیوں سے تعاون مانگ سکتے ہیں۔عیسائی جس طرح کی مدد کرنے کے قابل ہوں ، دوستی اور خلوص کے اظہار کے طور پر، اس مدد سے انکار نہیں کریں گی۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ عیسائیوں نے ہماری اطاعت قبول کی ہے، ہمارے زیرِحفاظت رہنے کی درخواست کی ہے اور ہماری پناہ میں آگئے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری ہر طرح کی جائز مدد اور اعانت کے حق دار ہیں۔ اگر مسلمانوں اور کفارکے درمیان امن کی بات چیت کے لیے کسی عیسائی کو سفارت کار کے طور پر بھیجا جائے گا تو کوئی اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنے گا۔ اگر وہ ہمارے مقصد کے لیے کوئی خدمت سر انجام دینے کا اہل سمجھا گیا تو اس کی خدمت کو قبول کیا جائے گا۔ لیکن جو کوئی اسے حقیر جانے گا اسے بارگاہ ِ رسالت میں جرم کا مرتکب ، دشمنِ وحی اور بدمعاشوں میں شمار کیا جائے گا۔

(یہاں رسول اعظم حضرت محمد (ﷺ) کا عیسائیوں کے ساتھ ایک اور معاہدہ (نقل کیا جاتا)ہے اس معاہدہ میں آپ علیہ السلام نے اپنے مذکورہ بالا الفاظ کے ذریعے عیسائیوں کے ساتھ ان کے عقیدہ اور قوانین کے حوالہ سے اپنے تعلق کو استوار کر دیا ہے اور کچھ احکامات کے ذریعے عیسائیوں کو پابند کر دیا ہے اس طرح وہ آں حضور کے مذکورہ بالا الفاظ سے متضاد رویہ نہیں دکھا ئیں گی۔اور ہر چیز آپ کے احکامات سے ہم آہنگ رہے گی)

احکامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کفار کی اعلانیہ یا خفیہ کوئی مدد نہیں کریں گی۔ نا ہی وہ مسلمانوں کے دشمنوں کا اپنے گھروں پر استقبال کریں گے مبادا اپنے لیے کسی مناسب وقت پر وہ مسلمانوں پر حملہ کردیں۔ وہ دشمن کے آدمیوں کو اپنے گھروں یا گرجوں میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

وہ دشمن کی فوج کو پناہ دیں گے ناہی نیزہ، تیر ، تلوار، گھوڑے یا کسی بھی ایسی چیز سے ان کی مدد کریں گی۔ وہ (عیسائی)ان (دشمنوں) کے رہ نما بنیں گے نا انہیں گھات کی جگہ بتائیں گی۔ وہ (عیسائی ) دشمن کی چیزوں کی حفاظت کریں گے نا دشمن کے ساتھ رابطہ رکھیں گی،وہ زبان یا عمل کے ذریعے ان کی مدد دکریں گے ، نا ہی وہ انھیں پناہ دیں گے سوائے جبر کے۔

اگر ایک مسلمان اتفاقاً کسی عیسائی کے گھر چلا جائے تو تین دن اور تین رات تک اس کی میزبانی کی جائے گی۔ اس سے زیادہ میزبانی غیر ضروری ہے۔ عیسائیوں پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ظالموں کی طرف سے کے جانے والے برے سلوک اور جبر کے خلاف رکاوٹ بن جائیں۔

اگر کسی موقع پر ان کے لیے لازم ہو جائے کہ وہ کسی مسلمان کو اپنی حویلیوں یا گھروں میں چھپا کر رکھیں تو جب تک وہ ان کے پاس چھپا رہے گا انھیں مسلمان کو آرام کے لیے جگہ دینا اور دیکھ بھال کرنا ہوگی۔ وہ اس کے ساتھ بے توجہی برتیں گے اور نہ ہی اس کی کھانے کی ضروریات سے اغماض کا رویہ اختیار کریں گی۔

مسلمان خواتین اور بچوں کو دشمن کے حوالے یا دشمن پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ عیسائی ان احکامات سے کبھی روگردانی نہیں کریں گی۔ اگر کوئی عیسائی اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرے گا یا اسے نظر انداز کرے گا تو اسے ناسخین معاہدہ میں شمار کیا جائے گا اس طرح کا شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سخت ناپسند یدہ ہے۔ رسالت مآب (ﷺ) اس گناہ کی پاداش میں ضرور اس پر حملہ کریں گی۔

اس لیے تمام عیسائیوں کو اس معاہدہ کے الفاظ کی پیروی کووقت موعود تک ایک لازمی پابندی خیال کرنا چاہیے۔ اہلِ کلیسا قوم کے سرداروں اور رسولِ معظم محمد (ﷺ) کے دست خط گواہوں کے طور پر اس کے ساتھ منسلک ہیں جو مندرجہ بالا معاہدہ کو مصدقہ بناتے ہیں۔

اللہ قادرِ مطلق اور رب العالمین ہے۔

رسولِ معظم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں یہ معاہدہ ہجرت کے چوتھے سال کے چوتھے مہینے میں پیر کے دن لکھا گیا۔

ایران، نیو جلفا کا مرکزی گرجا گھر جہاں سے یہ معاہدہ حاصل ہوا اور جہاں شاہ عباس کے فرمان کو حال ہی میں عوام کے مشاہدے کے لیے رکھا گیا۔

باب سوم

محمد رسول اللہ (ﷺ) کا نصاریٰ نجران کے ساتھ معاہدہ

محمد رسول اللہ (ﷺ) کی جانب سے

(معاہدہ کینقل)

اللہ کے نام سے جو رحمن ، رحیم ہے

یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اہل کتاب نصاریٰ ، دین نجران کے حاملین اور تمام عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ امن۔

اللہ کے رسول محمد بن عبد اللہ (ﷺ)، نے اسے ان کے لیے تمام لوگوں کے لئے لکھا ہے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے تحفظ دیا ہے۔ اور بعد میں آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے عہد لکھا ہے کہ وہ اسے یاد رکھیں ، پہچانیں ، اس پر یقین رکھیں اور اس کی حفاطت کریں۔

کسی گورنر یا حکمران کو اس بات کی اجازت نہیں کہ اسے توڑے یا اس کی خلاف ورزی کرے۔

اس معاہدہ میں درج شرائط کے علاوہ اہل ایمان کی طرف سےکوئی شرط ان پر عائد نہ کی جائے گی۔

جس نے اس معاہدہ کی پاسداری کی، اس کی حفاظت و رعایت کی وہ درست معاہدہ پر ہو گا اور رسول اللہ کی ذمہ داری کو پورا کرنے والا ہو گا۔اور جس نے اسے توڑا،اس کی مخالفت کی، اور اسے تبدیل کیا تو اس کا بوجھ اور وبال اسی پر ہو گا۔ اور وہ اللہ کے معاہدہ میں خیانت کا مرتکب ، اسے توڑنے، اس کی نافرمانی کرنے ، اور اس کے رسول کی خلاف ورزی کرنے والا ہو گا۔ اللہ کے نزدیک اس کا شمارجھوٹوں میں ہو گا۔ کیونکہ اللہ کے دین و عہد میں حفاظت ضروری ہے۔جس نے اس کا خیال نہ کیا تو اس نے اس ذمہ داری کی حرمت کی مخالفت کی ، اور جس نے اس ذمہ داری کی حرمت کی مخالفت کی تو وہ امین نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اور نیک اہل ایمان اس سے بری الذمہ ہیں۔

وہ سبب جس نے عیسائیوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کی طرف سے حفاظت کا حق دار ٹھہرایا ہے، ہر مسلمان پر ان کا حق لازم ہے ، اور اس دعوت کے حاملین پر بڑی ذمہ داری ہے۔مسلمانوں کو اس کی پاسداری، اس کی حمایت، اس کی حفاظت و پابندی اور وفاداری کرنی چاہیے۔جبکہ تمام اہل ادیان ، اور اہل کتاب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت، بغض رکھنے والے، اور اس صفت کا انکار کرنے والے ہیں جو صفت اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنے نبی کے بارے تاکیداً بیان کر دی گئی ہے۔ اس سے ان کے سینوں کے کھوٹ، بری سوچ اور سخت دلی واضح ہے کہ وہ اپنے بوجھ اٹھائیں اور جس بات کے اظہار کے لیے انہیں اللہ نے تاکید کی ہے ، اس کا اظہار کریں، چھپائیں نہیں، اور نہ اس معاہدہ کا انکار کریں جو ان کے ساتھ کیا گیا ہے۔

ان اقوام نے اپنے لیے دلیل کی خلاف ورزی کی، اس کی کما حقہ پاسداری نہ کی۔ اس بارے میں انہوں نے مقررہ آثار کا بھی لحاظ نہ کیا۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عداوت پرمتفق و متحد ہو گئے۔ اورلو گوں کے کے سامنےاپنے جھوٹی دلیل کو آراستہ کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی طرف کوئی بشیر و نذیر اور اللہ کی طرف بلانے اور سراج منیر نہیں بھیجے گاجو اپنے اطاعت گزارکوجنت کی بشارت دے، اور نافرمان کو دوزخ سے ڈرائے۔

انہوں نے جھوٹ سے آراستہ اپنی ذات کے ذریعے لوگوں کو زیادہ ابھارا ۔لوگوں کے لیے ایسے عمل کو مزین کیا، آپ کی رسالت کو ختم کرنے ، آپ کو تنگ کرنے اور آپ کی تاک میں رہنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے رسول اللہ (ﷺ) پر حملہ کرنے اور آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے مشرکین قریش اور ان کے ہم نواؤں کی ،آپ کی عداوت پر معاونت کی۔آپ کو زیر کرنے ، عہد کو توڑنے اور آپ کا انکار کرنےمیں ان کی مدد کی۔

اس طرح وہ اللہ کے عہد اور اس کی پاسداری سے بری الذمہ ہونا چاہتے تھے۔ اور غزوہ حنین کے موقع پر، بنی قینقاع، قریظہ اور نضیر ، ان کے سرداروں اور اہل مکہ دشمنان خدا میں سے ان کے حلیفوں کا معاملہ رسول اللہ کے خلاف جنگ سے عیاں ہو گیا۔ انہوں نے طاقت و اسلحہ سے اہل ایمان کی دشمنی کی بنا پر رسول اللہ کے خلاف ___ سوائے عیسائیوں کے ___ان کی مدد کی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے، اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے ہم نصاریٰ ہیں، یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے۔اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں۔اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے تھے۔کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ دے۔ اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیااور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر دے۔

وہ اپنے دین والوں کی طرف لوٹے اور انہوں نے اپنے عہد کو نہ توڑا، نہ ہی اپنی رائے کو بدلا بلکہ انہوں نے اس کی پاسداری کی جو انہوں نے مجھ سے روانگی کے وقت کیا تھا۔اور انہوں نے اسی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، اور یہودیوں سے جنگ کی قسم کھائی ، اور یہی میری آرزو تھی۔ اللہ تعالیٰ کے دین کے فروغ کے لیے اہل دعوت کی موافقت کی، اس کی حجت قائم کی، اور اس کے رسول کا دفاع کیا۔ اور میری تکذیب و مخالفت میں کمر بستہ یہودیوں کی حجت کو توڑا۔نصاریٰ نے میرے معاملہ کو تقویت دینے کی ٹھانی۔اور جس نے اسے ناپسند کیا ، اس کی تکذیب ، تبدیلی ، یا توڑنے اور بدلنے کا ارادہ کیا ، اس کے سامنے ڈٹ گئے۔

روئے زمین کے مختلف علاقوں سے مسلمان عرب سرداروں اور عیسائی مبلغین نے میرے معاملہ کے بارے میں، اور اپنے علاقوں میں سرحدوں کی لشکر کشی کا دفاع کرنے اور اس معاہدہ کو پورا کرنے کے حوالے سے اچھی رائے رکھنے پر مجھے خطوط لکھے۔ اسقفوں(Bishops) اور درویشوں کی وفاداری اور محبت کو میں نے قبول کیا۔ اور انہوں نے میرے موقف کے فروغ کے لیے میری دعوت پر میری معاونت کی۔ میں اس کا اظہار چاہتا ہوں اور یہ کہ وہ اس بارے میں انکار کرنے والے کے خلاف متحد ہو جائیں اور آپ کی مدد کریں۔

اور یہ اس لئے کہ نصاریٰ اور اللہ تعالیٰ کے دین پر یقین رکھنے اور اسے جاننے والے کچھ لوگوں نے اس دعوت کے اظہار پر ہماری مدد کی۔انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے لوگوں کو آگاہ کرنے اور اس پیغام پہنچانے کے حوالے سے تعاون کیا جو آپ کو دے کر بھیجا گیا۔ میرے پاس عبد یشوع ، ابن حجرہ، راہب ابراہیم، اور عیسیٰ اسقف(Bishop) اہل نجران سے چالیس سواروں کے ساتھ آئی، اور عرب و عجم کے اکناف سے ان کے ساتھ ان کے ہم مذہب آئے ۔میں نے ان کے سامنے اپنا مقصد رکھا اور انہیں اس کی تقویت، غلبہ اور مدد کی دعوت دی۔ یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی واضح حجت تھی۔وہ پیچھے ہٹے اورنہ راہ فرار اختیار کی۔

وہ بجا لائے اور اپنی درماندگی کا اظہار کیا اور کوشش کی۔ یہاں فرمانبردارہو کر اس کا اقرار کیا، چار و ناچار اسے قبول کیا۔ اور مطیع یا مغلوب ہو کر اس میں داخل ہوئے۔میرے اور ان کے درمیان جو طے ہوا اس کا حفاظت کرتے ہوئے اور جس پر وہ مجھ سے جدا ہوئے اس پراستقامت اختیار کرتے ہوئے، میرے معاملہ اور میری دعوت کے غلبہ کی تقویت کے لئے اپنی چاہت سے اس کا جواب دیا۔اور انہوں نے وفاداری میں یہود اورمشرکین مکہ ان کے حلیفوں کی مخالفت کی ۔ انہوں نے خود کو اس لالچ سے دور رکھا جو یہود انہیں گاہے گاہے دیتے رہتے تھے۔ وہ (یہود) چاہتے تھے کہ وہ بھی سود خوری اور رشوت کا شکار ہو جائیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو قلیل داموں بیچیں۔(برباد ہو جائیں جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تباہی ہے ان کے لیے جو وہ کماتے ہیں۔

یہود، مشرکین مکہ اور ان کے دیگر حلیفوں نے اللہ اور اس کے رسول کی عداوت کو ضروری سمجھا۔ اور دھوکہ دینے کا ارادہ کیا اور اپنے لیے عداوت کو بہتر سمجھا۔۔۔۔

عیسائیوں نے میرے ساتھ عہد کی پاسداری میں رغبت ، میرے حق کو پہچانتے ہوئے، اور میرے ساتھ معاہدہ جو انہوں نے مجھ سے روانہ ہوتے ہوئے کیا، کی حفاظت ، اور سرحدوں کے اطراف میں میرے کمانداروں کی اعانت کرتے ہوئے، ان (یہود و مشرکین مکہ)کی مخالفت کی۔اس طرح وہ میری محبت و مہربانی کے مستحق ٹھہرے، میری ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں میں وفاداری رہے گی۔ اور شرق و غرب میں تمام اہل اسلام کو میں اپنی طرف سے عطا کروں گا۔ جب تک میں ہوں وہ میری پناہ و حفاظت میں ہوں گے، اور میری وفات کے بعد جب اسلام کا شجر پھلے پھولے گا اور حق و ایمان کی دعوت کا چرچا ہو گا، وہ میری حفاظت میں ہوں گے۔ یہ میرا اہل ایمان ، و اہل اسلام کے ساتھ اس وقت تک عہد ہے جب تک سمندران کو تر کرتا ، آسمان بارش برساتا ، زمین فصلیں اگاتی ، آسمان ستاروں سے روشن ، راہ گیروں کے لیے صبح کا اجالا پھیلا رہے گا، کسی کی مجال نہیں کہ اسے توڑے، تبدیلی کرے، زیادتی یا کمی کرے۔ کیوں کہ زیادتی میرے معاہدہ کو توڑ دے گی اور کمی میری حفاظت کو کم کر دے گی۔

میرے لیے اس عہد کی پابندی ضروری ہے جو میں نے کیا ہے، اور جس نے میری امت میں سے اس کی مخالفت کی یا اللہ تعالیٰ کے عہد و میثاق کو توڑا تو اللہ تعالیٰ کی گواہی اس کے خلاف ہو گی اور اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے۔

اور بیشک اس کا سبب یہ ہے کہ (اسی طرح) کے ساتھیوں میں سے تین کے گروہ نے تمام عیسائیوں کے لیے مسلمانوں کی طرف سے ایک امان نامہ لکھنے کی درخواست کی۔ اور ان کے لیے ایک معاہدہ کی دستاویز جسے وہ ان کے لیے وفا کریں۔اور تم نے میری طرف سے اسے ویسا ہے ۔

اور میں نے ہر اس شخص کے لئے ذمہ داری کو مکمل کرنا پسند کیا جس کی حالت میری طرح ہے،۔ اور سرزمین عرب کے اطراف میں میرے اور میرے مبلغین کی طرف سے ہر عیسائی سے تکلیف کو روکنا پسند کیا۔اور یہ کہ میں ایک ایسامحفوظ معاہدہ کروں اور ایک ایسا نیک کام ہو جس کو مسلمان بجا لائیں اور اہل ایمان اسے حرز جاں بنائیں۔

میں نے مسلمان روساءاور اپنے عالم صحابہ کو بلایا، اور میں نے اپنے تئیں اسے پکا کیا جو وہ چاہتے تھے۔ اور ان کے لیے ایک معاہدہ لکھا جو مسلمانوں کی نسلوں میں سے حکمران و غیر حکمران کے پاس محفوظ رہے کہ جو میں نے انہیں حکم دیا ہے وہ نافذ ہو،تاکہ حق کے مطابق وفا کے لئے استعمال کیا جائے۔اور جنہوں نے مجھ سے معاہدہ کی درخواست کی وہ آزاد ہوں او رمیری طرف سے وہ ذمہ داری پوری ہو جو میں نے ان کی حفاظت کی اٹھائی ہے تا کہ میرے حکم کی مخالفت کے حوالے سے ان پر حجت رہے۔

اور رعایا کے لیے لازم ہو گا کہ وہ انہیں اذیت نہ پہنچائیں۔اور اس عہد کو پورا کریں جو میں نے ان سے کیا ہے تاکہ وہ بھی میرے ساتھ وفا داروں میں شامل ہوں۔ اور بھلائی کے کاموں میں میرے مددگار ہوں ، جو میری طرف سے ان کے لیے کافی ہو جس کے وہ مستحق ہیں، اور وہ دعوت پر میرا معاون ہو اور تکذیب و تشکیک پیدا کرنے والوں کے مخالف ہو۔اور یہ کہ کسی ذمی کے پاس کسی مسلمان کے خلاف میرے کئے ہوئے معاہدے کی مخالفت میں کوئی دلیل نہ رہے ، اور ان کے لیے اس کی پاسداری کی جائے جس کے وہ میری طرف سے حقدار ہیں۔جبکہ یہ معاہدہ نیکی کی تکمیل اور اعلیٰ اخلاق کی دعوت دیتا ہے ، نیکی اور اچھائی کرنے کا حکم دیتا ہے اور تکلیف روکتا ہے۔ اس (معاہدہ میں) ان شاءاللہ تعالیٰ سچائی کی اتباع اور حق کا ایثار ہو گا۔

یہ ایک دستاویز کی تحریری نقل ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محمد بن عبد اللہ کی طرف سے تمام عیسائیوں کے لیے لکھے گئے معاہدہ کی نقل

یہ معاہدہ پیغمبر خدا محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے تمام انسانوں کے لیے تحریر فرمایا ہے جو بشیر و نذیر ، مخلوق خدا میں اس کی امانتوں کے امین ہیں، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی حجت باقی نہ رہے، وہ غالب حکمت والا ہے۔

یہ معاہدہ حارث بن کعب ، ان کے ہم مذہب، اور عیسائیت سے نسبت رکھنے والے ان لوگوں کے لیے جو روئے زمین کے شرق و غرب، دور و نزدیک ، عربی و عجمی، معروف و غیر معروف کے لیے بصورت خط لکھا، جو معاہدہ قرار دیا گیا۔

جس نے اس کی حفاظت کی وہ اسلام سے وابستہ ہو گا، اور اس کی بھلائی اور خیر کا مستحق ٹھہرے گا، اور جس نے اسے ضائع کیا،اور اس عہد کو توڑا، اس میں تبدیلی کی، اور اللہ تعالیٰ کے عہد کے لیے جو اسے حکم دیا گیا ہے، زیادتی کا ارتکاب کرے، خواہ وہ سلطان ہو یا کوئی اور مسلمان مومن ہو،وہ اللہ کے عہد کو توڑنے ، اس کے دین سے استہزاءکرنے والا ہے، وہ لعنت کا مستحق ہو گا۔

میں بھی اسی عہد کا پابند ہوں جس اللہ کے عہد و میثاق کا میں انہیں پابند کر رہا ہوں اور میں انہیں اولین و آخرین انبیاءو اصفیاء، اہل ایمان و اہل اسلام کی طرف سے حفاظت میں دیتا ہوں، یہ میری حفاظت میں ہوں گی۔

سب سے زیادہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر لازم قرار دی وہ اطاعت گزاری، فرض شناسی، اور اس کے عہد کی وفا ہے اور مجھ پر یہ فرض ہے کہ میں اپنے گھڑ سوار، پیادہ فوج ، اسلحہ و طاقت ، اور پیروکاروں کے ساتھ دشمن کے ہردور و نزدیک علاقے میں ، امن و جنگ کی حالت میں، ان کی حفاظت کروں ۔یہ کہ میں ان کی سرحدوں کی حفاظت کروں، ان سے تکلیف کا ازالہ کروں، ان کے کلیساؤں، گرجوں، عبادت گاہوں، راہبوں اور خلوت نشینوں کے مقامات ، وہ پہاڑ، وادی، آبادی، میدان و ریگستان ، جہاں بھی ہوں، حفاظت کروں ۔

وہ بحر و بر ، شرق و غرب جہاں بھی ہوں ان کے دین وملت کی حفاظت کروں گا۔ اس (معاہدہ) کے ذریعے میں اپنی، اپنے خواص، اور اہل اسلام کی حفاظت کروں گا۔

اور یہ کہ میں انہیں ہر اذیت و تکلیف اور مشقت سے تحفظ دوں اور ہر دشمن سے ان کا دفاع کروں جو مجھے، انہیں، اور میرے پیروکاروں کو تکلیف دینا چاہتے ہیں۔

میں ان کا حکمران ہوں۔ اس لئے ان کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔ میرے ساتھ دین کے دفاع میں مصروف کار میرےصحابہ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گوارا ہے لیکن انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔

اور یہ کہ میں انہیں جہاد کرنے والوں کی مہم جوئی میں شرکت کا پابندکرتا ہوں، نہ خراج کا مگر جسے وہ خوشی دلی سے ادا کریں۔ ان پر کوئی جبر و سختی نہیں۔

اور نہ کسی اسقف کو اس کی عملداری سے، کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے، کسی زائر کو اس کی سیاحت سے، نہیں ہٹایا جائے گا۔ نہ ان کے کسی گھر کو گرایا جائے گا، نہ ان کی عمارت کی کوئی چیز مساجد اور مسلمانوں کے گھر کی تعمیر میں استعمال کی جائے گی۔جس نے ایسا کیا تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا، اس کے رسول کی مخالفت کی، اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ سے روگرداں ہوا۔

اور یہ کہ راہبوں اور علماء(اسقفوں) ، غلاموں ، درویشوں اور پہاڑوں اور شہروں سے دور مقامات میں خلوت گزینوںسے کسی طرح کا خراج یا جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا

عبادت گزاروں، راہبوں اور خلوت نشینوں کے علاوہ عیسائیوں پر سالانہ چار درہم یا حیرہ کے کپڑے یا یمن کی چادر پر اکتفاءکیا جائے گا۔یہ اہل اسلام کی اعانت اور بیت المال کی مضبوطی کے لیے ہو گا۔

اگر ان کے لئے کپڑا مہیا کرنا آسان نہ ہو تو اس کی قیمت ادا کریں گے، اور ان پر یہ سب کچھ ان کی مرضی اور خوشی سے ہو گا۔ اور خراج ، جائیداد، اور خشکی و تری کی تمام تجارت کرنے والوں پر جزیہ کے حوالے سے ہم تجاوز نہ کریں گے۔

اور اپنی اقامت کے مقامات سے جواہرات، سونا ، چاندی نکالنے والوں اور دولتمندوں ، صاحب حیثیت عیسائی عوام سے بارہ درہم سالانہ سے زیادہ نہیں وصول کیا جائے گا۔ جبکہ ان مقامات پر بستے اور وہاں مقیم ہوں گے۔

اہل شہر میں سے مسافر سے کوئی مطالبہ نہ کیا جائے گا۔نہ ان گزرنے والوں سے جن کے (رہائشی) مقامات کا علم ہی نہیں۔

اور جن کے پاس زمین ہو گی صرف اسی پر خراج اور جزیہ لاگو ہوگا ، باقی پر نہیں۔ جو ان پر لاگو ہو گا اس میں حکمران کا بھی حق ہے، تو وہ اسے اسی طرح ادا کرے گا جس طرح وہ ادا کرتا ہے۔ اور ہر ایک سے اس کی بساط اور کھیتی باڑی کرنے کی طاقت، اس کی آباد کاری، اور بار آوری کے مطابق ہی واجب ہو گا۔انہیں ذرہ برابر بھی مکلف نہیں بنایا جائے گا، نہ خراج ادا کرنے کی حد سے تجاوز ہو گا۔ نہ کسی ذمی کو مسلمانوں کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی جنگ میں حصہ لینے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔ ذمیوں کے لئے جنگ حصہ لینا لازم نہیں، وہ تو جزیہ ہی اس بات کا دیتے ہیں کہ ان پر یہ ذمہ داری نہ ڈالی جائے۔ مسلمان ان کا دفاع کریں گے، ان کی حفاظت کریں گے۔ اور مسلمانوں کی کسی جنگ کی تیاری میں انہیں حصہ لینے پرمجبور نہیں کیا جائے گا۔ جس میں وہ اپنے دشمن سے قوت و طاقت ، ہتھیاروں اور گھوڑوں سے نبردآزما ہوں گے۔ مگر یہ کہ وہ اپنی طرف سے رقم ادا کریں ، اس وجہ سے کہ گویا یہ ان کی ذمہ داری ہی ادا ہو رہی ہے۔ جس نے رقم ادا کی وہ قابل تعریف ہوگا ، اور اس کا اسے بدلہ دیا جائے گا۔

کسی بھی عیسائی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ” اور تم اہل کتاب سے عمدہ طریقے سے مناظرہ کرو۔“ وہ ملک میں جہاں کہیں بھی بود و باش اختیار کریں گے، ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ ہو گا اور تکلیف دور کی جائے گی۔

اگر عیسائیوں میں سے کسی نے جرم کا ارتکاب کیا ، تو مسلمانوں پر اس کی مدد ضروری ہو گی، اسے جرم سے روکا جائے گا، اس کا دفاع کیا جائے گا۔ اس کے اورمتاثرہ شخص کے درمیان صلح کرائی جائے گی، یا تو وہ اسے معاف کر دے یا ہرجانہ قبول کر لے۔

انہیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جائے گا کیونکہ میں نے ان کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں کو ملے گا وہ انہیں بھی میسر ہو گا۔ اور جس طرح مسلمانوں کے لیے معاہدہ کی پاسداری ضروری ہے اسی طرح ان کے لیے بھی یہ پاسداری لازم ہے۔ اسی کی رو سے وہ ہماری حفاظت کے حق دار ٹھہرے ۔ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے ہر تکلیف کو دور کیا جائے۔ یہاں تک وہ اپنی ذمہ داریوں میں مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوں۔

نکاح کے سلسلے میں ان کی مرضی کے خلاف کوئی زبردستی نہیں ہو گی، کسی عیسائی لڑکی کو مسلمان کے ساتھ شادی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ منگنی نہ کرنا چاہیں یا شادی سے انکار کر دیں تو انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا کیونکہ یہ رضامندی و خواہش کے بغیر کسی طرح درست نہیں۔وہ اسے پسند کریں اور اس پر رضامند و متفق ہوں۔ اگر کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان کے نکاح میں ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی نصرانیت کا احترام کرے، اپنے مذہبی پیشواؤں کی پیروی کرنے میں اس کی خواہشات اور مرضی کو مد نظر رکھے، اسے ایسا کرنے سے منع نہ کرے۔ جس نے اس کی مخالفت کی اور اسے اس کے دین کے حوالے سے کوئی امر بجا لانے پر مجبور کیا تو گویا اس نے اللہ کے عہد کی مخالفت کی اور اس کے رسول کے معاہدہ کی نافرمانی کی، اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھوٹوں میں شمار ہو گا۔اگر انہیں اپنے گرجوں اور کنیساؤں کی مرمت کے سلسلے میں، یا اپنے معاملات یا دینی مفادات کے حوالے سے مسلمانوں کی مدد اور ان کے تعاون کی ضرورت ہو گی ، وہ ان کی مرمت کے سلسلے میں ان کے دست و بازو بنیں، ان کی مالی امداد اور تعاون کریں۔یہ ان پر کوئی قرض نہ ہو گا بلکہ ان کے دینی مفادات و مصالح کی تقویت و مضبوطی کا باعث ہو گا۔رسول اللہ (ﷺ) کے عہد کی پاسداری و وفا ہو گی، ان کے لیے عطیہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کا ان پر احسان ہو گا۔اور ان میں سے کسی کو مسلمانوں و اعدائے اسلام کے ما بین جنگ میں قاصد، و راہنما، معاون یا مخبر کی ذمہ داری نہیں سونپی جائے گی۔ کوئی ایسی چیز جس سے جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں۔جس نے ان میں سے کسی کے ساتھ ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادتی کرنے والااور اس کے رسول کا نافرمان ہو گا۔اس معاہدہ سے اپنے آپ کو خارج کرنے والاہو گا۔اس کے ایمان کے لیے ان شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول محمد بن عبد اللہ نے عیسائیوں کے لیے طے فرمائی ہیں۔

ان کے لیے معاہدہ کی رو سے کچھ ایسے امور شرط قرار دیئے ہیں جن کا ان کے دین میں مضبوطی سے تھامنا اور پورا کرنا واجب ہے۔ کہ ان میں سے کوئی بھی علی الاعلان یا خفیہ طور پر مسلمانوں کے خلاف جنگی دشمن کی طرف سے راہنما یا جاسوس نہیں بنے گا۔نہ اپنے گھروں میں مسلمانوں کے دشمن کو پناہ دے گاجو موقع کی تلاش میں ہیں اور حملہ کرنا چاہتے ہیں۔اپنے علاقوں میں،اپنی جائیدادوں میں، نہ اپنی عبادت گاہوں، نہ کسی عیسائی کے پاس ٹھہرائیں۔نہ مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار کی اسلحہ، گھوڑوں، لوگوں اور نہ کسی اور طرح مدد کریں گے ۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی مسلمان ان کے ہاں مہمان آ جائے تو تین دن رات مہمان نوازی کریں۔اپنی ذات اور جانوروں کو جہاں بھی ہوں، ان کی مہمان نوازی کی خاطر خرچ کریں۔جیساکھائیں ویسا ہی انہیں کھلائیں۔اس کے علاوہ نہ کریں کہ انہیں تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔

اگر کسی مسلمان کو ان کے ہاں، ان کے گھروں، عبادت گاہوںمیں چھپنے کی ضرورت پیش آئے تو اسے پناہ دیں۔جب تک اکٹھے رہیں ان کی چارہ سازی کرتے رہیں۔وہ انہیں پوشیدہ رکھیں،دشمن کو ان کے بارے میں نہ بتائیں اور اپنے واجب میں سے کسی چیز کو ترک نہ کریں۔

جس نے ان شرائط میں سے کسی شرط کو توڑایا تبدیل کیا تو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی حفاظت سے آزاد ہے۔اور ان پر ان معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے جو راہبوں کی طرف سے ہوئے،اور جو ہر نبی نے اپنی امت کے لئے کئے۔ان شاءاللہ ان معاہدوں کو قیامت تک توڑا جائے گا نہ تبدیل کیا جائے گا۔

اس معاہدہ کو جو محمد بن عبد اللہ نے اپنے اور عیسائیوں کے ما بین لکھاجن پر شرائط لاگو ہیں ، اوریہ معاہدہ ان کے لئے تحریر فرمایا، اس کے گواہ یہ ہیں:۔

عتیق بن ابی قحافہ(ابوبکر)، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، ابوذر، ابوالدرداء، ابوہریرہ، عبد اللہ بن مسعود، العباس بن عبد المطلب، الفضل بن عباس ، زبیر بن العوام، طلحہ بن عبد اللہ، سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ، ثمامہ بن قیس ، زید بن ثابت اور ان کے صاحبزادے عبد اللہ، حرقوص بن زہیر، زید بن الارقم، اسامہ بن زید، عمار بن مظعون، مصعب بن جبیر، ابو العالیہ، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، ابو حذیفہ، کعب بن مالک، حسان بن ثابت، جعفر بن ابی طالب،اور اسے معاویہ بن ابو سفیان نے تحریر کیا۔

باب چہارم

محمد رسول اللہ (ﷺ) کا عالم عیسائیت کے لیے معاہدہ

مخطوطہ کارمل پہاڑی

اللہ تعالیٰ کے رسول محمد(ﷺ) کی طرف سے

اللہ خالق ،حی ،ناطق اور مخلوق کے فنا کے بعد باقی رہنے والی ذات کے نام سے آغاز

یہ اس معاہدہ کی نقل ہے جو جناب محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے تمام عیسائیوں کے لئے تحریر کیا۔

معاہدہ کی نقل:

یہ معاہدہ اللہ کے رسول محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (ﷺ) نے تمام عیسائیوں اور راہبوں کے تحفظ کے لیے تحریر فرمایا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں تاکہ آپ ان پر حجت ہوں، اور رسول کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے اپنی طرف سے تحفظ اور ذمہ داری قرار دیا۔اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔۔۔اسے اسد اور اس کی ملت نے روئے زمین کے شرق و غرب ، دور و نزدیک، عربی و عجمی ، معروف و غیر معروف عیسائیوں کے لیے لکھا یہ آپ کی طرف سے معاہدہ اور عدل ہے۔ اس کی حفاظت ہو گی۔جس نے اس کی حفاظت و رعایت کی وہ اسلام سے وابستہ اور اپنے دین پر کاربند ہے۔ اور جس نے اس عہد کو توڑا، رائیگاں کیاجس کو اللہ کے رسول نے پورا کرنے کا حکم دیا ہے، یا اس میں تبدیلی کی یا اس میں زیادتی کی جس کا اسے حکم دیا ہے، خواہ وہ سلطان ہو یا کوئی اور مسلمان مومن ہو،وہ اللہ کے عہد کو توڑنے ، اس کے دین سے استہزاءکرنے والا ہے، وہ لعنت کا مستحق ہو گا۔

میں بھی اسی عہد کا پابند ہوں جس اللہ کے عہد و میثاق کا میں انہیں پابند کر رہا ہوں اور میں انہیں اولین و آخرین انبیاءو اصفیاء، اہل ایمان و اسلام کی طرف سے حفاظت میں دیتا ہوں، یہ میری حفاظت میں ہوں گی۔

جس نے اس عہد کو توڑا، اس کی مخالفت کی، اور اللہ تعالیٰ کے عہد کے لیے جو اسے حکم دیا گیا ہے، زیادتی کا ارتکاب کرے،خواہ وہ سلطان ہو یا کوئی اور مسلمان مومن ہو،وہ اللہ کے عہد کو توڑنے ، اس کے دین سے استہزاءکرنے والا ہے۔

میں انہیں اپنے معاہدے اور دستاویزات دے رہا ہوں جن کی وہ مجھ سے اور تمام اہل اسلام سے درخواست کر رہے ہیں کہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق عطا کروں، اور اس کے اولین انبیاء، رسل، اصفیاءو اولیاءکی طرف سے حفاظت عطا کروں۔اطاعت شعاری اور فرض کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کے عہد کی وفاکے حوالے سے جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے کسی نبی مرسل پر ڈالی ہے ، میری ذمہ داری اور میثاق اس سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ میں اپنی قدرت ، گھڑ سواروں، جوانوں، ہتھیاروں اور قوت اور قریب و بعیدہر علاقے میں مسلمان پیروکاروں کے ساتھ ان کی زمینوں اور دین کی حفاظت کروں۔ اور ان کے کلیساؤں کی حفاظت کروں،اور ان سے تکالیف کا ازالہ کروں۔،گرجوں، عبادت گاہوں، راہبوں اور خلوت نشینوں کے مقامات ، وہ پہاڑ، وادی، غار یا آبادی، میدان و ریگستان ،عمارت جہاں بھی ہوں، حفاظت کروں ۔میں مشرق و مغرب میں جہاں بھی ہوں،ان کی اسی طرح حفاظت کروں گا جیسے اپنی ، اپنے خواص ، اور مسلمانوں کی حفاظت کرتا ہوں۔

میں ہر آن انہیں اپنی حفاظت و عہد اور امان میں رکھوں گا اور ان سے ہر قسم کی اذیت اور تکلیف کو دور کروں گا، میں ان کے ہر دشمن اور ضرر رساں سے ان کا دفاع کروں گا۔ ان کی خاطر اپنی ، اپنے معاونین ، پیروکاروں اور مسلمانوں کی تمام تر توانائیاں صرف کروں گا، کیونکہ وہ میری رعایا اور میری حفاظت میں ہیں۔ان کے مصائب کو اپنی حکمرانی سے دور کروں گا۔ اور اسی طرح مجھ پر ان کی ہر شر سے رعایت وحفاظت ضروری ہے، انہیں کسی طرح کی کوئی تکلیف نہ پہنچے خواہ میرے اصحاب کو پہنچ جائے جو ان سے دفع شر کرتے ہیں اور نصرت اسلام کے لیے کوشاں ہیں۔

میں انہیں خراج کی تکلیف سے بھی دور کروں گا جو ذمیوں پر لاگو ہوتا ہے، مگر یہ کہ وہ اپنی مرضی اور خوش دلی سے دیں۔اس سلسلے میں ان کے ساتھ کوئی سختی اور جبر نہیں ہو گا۔اور نہ کسی اسقف کو اس کی عملداری سی، کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے، کسی زائر کو اس کی زیارت سے، نہ روکا جائے گا۔ نہ ان کے کسی گھر کو گرایا جائے گا، نہ ان کی عمارت کی کوئی چیز مساجد اور مسلمانوں کے گھر کی تعمیر میں استعمال کی جائے گی۔جس نے ایسا کیا تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا، اس کے رسول کی مخالفت کی، اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ سے روگرداں ہوا۔

اور یہ کہ راہبوں اور علماء(اسقفوں) ،عبادت گزاروں، درویشوں، یا پہاڑوں اور خلوت گزینوں، سے جزیہ اور خراج نہیں لیا جائے گا۔

عبادت گزاروں، راہبوں اور خلوت نشینوں کے علاوہ عیسائیوں پر سالانہ چار درہم پر اکتفاءکیا جائے گا یا قیمتی کپڑے یا قیمت ادا نہ کرنے یا غلہ نہ دینے کی صورت میں اہل اسلام بیت المال سے اس کی مدد کریں گے۔اگر ان کے لئے غلہ دینا آسان نہ ہوتو انہیں معاف کر دیا جائے گا، اور ان پر یہ سب کچھ ان کی مرضی اور خوشی سے ہو گا۔

اور خراج ، جائیداد، اور خشکی و تری کی تمام تجارت کرنے والوں پر جزیہ کے حوالے سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔اور اپنی اقامت کے مقامات سے جواہرات، سونا ، چاندی نکالنے والوں اور دولتمندوں ، صاحب حیثیت عیسائی عوام سے بارہ نگینے سالانہ جزیہ سے زیادہ نہیں وصول کیا جائے گا۔ جبکہ وہ ان مقامات پر بسنے والے اور وہاں مقیم ہوں۔

مسافر، جو کسی خطہ اور گوشہ کے باسی نہیں ، نا معلوم مقام کے صاحب اختیار سے ، خراج ہو گا نہ جزیہ۔ مگر یہ کہ جن کے پاس زمین ہو گی صرف اسی پر خراج اور جزیہ لاگو ہوگا ، باقی پر نہیں۔ جو ان پر لاگو ہو گا اس میں حکمران کا بھی حق ہے، تو وہ اسے اسی طرح ادا کرے گا جس طرح وہ ادا کرتا ہے۔ اور ہر ایک سے اس کی بساط اور زمینداری کرنے کی طاقت، اس کی آباد کاری، اور بار آوری کے مطابق ہی واجب ہو گا۔انہیں ذرہ برابر بھی مکلف نہیں بنایا جائے گا، نہ خراج ادا کرنے کی حد سے تجاوز ہو گا۔

 کسی ذمی کو مسلمانوں کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی جنگ میں حصہ لینے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ذمیوں کے لیے جنگ میں حصہ لینا ضروری نہیں، وہ تو جزیہ ہی اس بات کا دیتے ہیں کہ ان پر یہ ذمہ داری نہ ڈالی جائی۔ مسلمان ان کا دفاع کریں گے اور ان کی حفاظت کریں گے۔ اور مسلمانوں کی کسی جنگ کی تیاری میں انہیں حصہ لینے پرمجبور نہیں کیا جائے گا۔ جس میں وہ اپنے دشمن سے قوت و طاقت ، ہتھیاروں اور گھوڑوں سے نبردآزما ہوں گے۔ مگر یہ کہ وہ اپنی طرف سے رقم ادا کریں ،اور جو کچھ مسلمان ادھار ان سے لیں وہ محفوظ ہو گا ، انہیں واپسی تک بیت المال اس کا ضامن ہو گا۔اگر وہ فوت ہو جائے یا اس پر حملہ ہو جائے تو بیت المال سے اس کی تلافی ہو گی، اور یہ تلافی رقم کے ذریعے ہو گی۔

کسی بھی عیسائی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ” اوران سے عمدہ طریقے سے مناظرہ کرو۔“ان کے ساتھ نرمی کا برتاو ہو گا، وہ ملک میں جہاں کہیں بھی بود و باش اختیار کریں گی، ان سے تکلیف دور کی جائے گی۔اگر عیسائیوں میں سے کسی نے جرم کا ارتکاب کیا ، تو مسلمانوں پر اس کی مدد ضروری ہو گی، اسے جرم سے روکا جائے گا، اس کا دفاع کیا جائے گا۔ جرم کا ارتکاب کرنے پر ہرجانہ ہو گا۔اس کے درمیان اورمتاثرہ کے درمیان صلح کرائی جائے گی، یا تو وہ اسے معاف کر دے یا ہرجانہ قبول کر لے۔انہیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جائے گا ، نہ جدا کیا جائے گا، کیونکہ میں نے ان کے ساتھ اللہ کا عہد کیا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے لیے معاہدہ کی پاسداری ضروری ہے اسی طرح ان کے لیے بھی یہ پاسداری لازم ہے۔ اسی کی رو سے وہ ہماری حفاظت کے حق دار ٹھہرے ۔ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے ہر تکلیف کو دور کیا جائے۔ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیا جائے، اور حقوق و فرائض میں مسلمان شریک ہوں گے۔نکاح کے سلسلے میں ان کی مرضی کے خلاف کوئی زبردستی نہیں ہو گی، ان کی بیٹیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شادی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ منگنی نہ کرنا چاہیں یا شادی سے انکار کر دیں تو انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا کیونکہ یہ رضامندی و خواہش کے بغیر کسی طرح درست نہیں۔

اگر کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان کے نکاح میں ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی نصرانیت کا احترام کرے، اپنے مذہبی پیشواوں کی پیروی کرنے میں اس کی خواہشات اور مرضی کو مد نظر رکھے، اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے دے، جس نے اسے دینی حوالے سے مجبور کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے ، اور رسول خدا(ﷺ) کے معاہدہ کا نافرمان ہوگا۔اور ہمارے ہاں وہ جھوٹا ہو گا۔

اگر انہیں اپنے گرجوں اور کنیساؤں کی مرمت کے سلسلے میں، یا اپنے معاملات یا دینی مفادات کے حوالے سے مسلمانوں کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہو گی کہ وہ ان کی مرمت کے سلسلے میں ان کے دست و بازو بنیں، ان کی مالی امداد اور تعاون کریں۔یہ ان پر کوئی قرض نہ ہو گا بلکہ ان کے دینی مفادات و مصالح کی تقویت و مضبوطی کے لیے ہو گا۔رسول اللہ (ﷺ) کے عہد کی پاسداری و وفا ہو گی، ان کے لیے عطیہ ہو گا ۔ان پر اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اور رسول اللہ (ﷺ) کے حق کا ذمہ ہے۔

اور ان میں سے کسی کو مسلمانوں و اعدائے اسلام کے ما بین جنگ یا جنگ سے متعلق امورمیں قاصد، معاون یا مخبر کی ذمہ داری نہیں سونپی جائے گی۔ جس نے ان میں سے کسی کے ساتھ ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادتی کرنے والااور اس کے رسول کا نافرمان ہو گا۔اور دین سے دستبردار ہونے والاہو گا۔مگر یہ کہ وہ ان شرائط کو پورا کرے جو اللہ تعالیٰ کے رسول محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے عیسائیوں کے لیے طے فرمائی ہیں۔

ان کے لیے ان کے دین کے بارے میں کچھ ایسے امور شرط قرار دیئے ہیں جن کا مضبوطی سے تھامنا اور پورا کرنا واجب ہے۔ کہ ان میں سے کوئی بھی علی الاعلان یا خفیہ طور پر مسلمانوں کے خلاف جنگی دشمن کی طرف سے جاسوس نہیں بنے گا۔ اپنے گھروں میں مسلمانوں کے دشمن کو پناہ دے گا۔نہ اپنے علاقوں میں جگہ دیں اور نہ اپنی عبادت گاہوں میں،۔نہ مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار کی ہتھیاروں، گھوڑوں،اور افرادی قوت سے مدد کریں، غیر ضروری مطالبات سے گریزاں رہیں۔نہ ان کو تنگ کریں، اور جب تک وہ ان کی سرزمین میں رہیں، ان کی عزت کریں جب تک وہ اپنے دین پر برقرار رہیں، اپنی ذمہ داری کی پاسداری کریں۔ اگر مسلمانوں میں سے کوئی ان کے پاس مہمان بن کر آ جائے تو تین دن تک وہ جہاں بھی جائیں،ان کی مہمان نوازی کریں۔ان کی ایسے کھانوں سے مہمان نوازی کریں جیساخود کھاتے ہیں۔ان کی خاطر کوئی تکلف نہ کریں جس کی وجہ سے انہیں پریشانی اور بوجھ کا سامنا کرنا پڑے۔

اگر کسی مسلمان کو ان کے ہاں، ان کے گھروں، عبادت گاہوںمیں چھپنے کی ضرورت پیش آئے تو اسے پناہ دیں۔ان کے ساتھ تعاون کریں، ان کے چھپنے کی مشقت و تکلیف میں ان کی چارہ سازی کریں۔جب وہ چھپیں تو انہیں دشمن پر ظاہر نہ کریں، فرض کو نبھائیں۔

جس نے ان شرائط میں سے کسی شرط کو توڑایا تبدیل کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کا عہد توڑا۔

اور ان پر ان معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے جو راہبوں سے کیے ہیں،وہ جہاں بھی ہوں، میری طرف سے انہیں مکمل تحفظ کی ضمانت ہے۔اور رسول اللہ (ﷺ) کے لیے ان کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کی وفا ضروری ہے ، اور تمام اہل اسلام پر قیامت اور دنیا کے ختم ہونے تک ان کی حفاظت اور حسن سلوک و مہر و محبت ضروری ہے

اس معاہدہ کو جواللہ کے رسول محمد بن عبد اللہ (ﷺ) نے اپنے اور عیسائیوں کے ما بین لکھاجن پر شرائط لاگو ہیں ، اوریہ معاہدہ ان کے لیے تیس گواہان کی موجودگی میں تحریر فرمایا۔ وہ گواہ یہ ہیں:۔

ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب،ابوذر، ابو الدرداء، ابوہریرہ، عبد اللہ بن مسعود،عباس بن المطلب، فضل بن عباس الزھری، طلحہ بن عبد اللہ، سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ، ثابت بن قیس، یزید بن تلیت، عبد اللہ بن یزید، فرصوص بن قسیم بن بدر بن ابراہیم، امام بن یزید، سیل بن تمیم، عبد العظیم النجاشی، عبد العظیم بن حسین۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص، عمرو بن یاسر، معظم بن موسیٰ، حسان بن ثابت، ابو حنیفہ، عبید ابن منصور، ہاشم بن عبد اللہ، ابو العاذر، ہشام بن عبد المطلب۔

یہ معاہدہ علی بن ابی طالب نے لکھا۔ایک بڑی جلد میں مکتوب ہے۔ اور سلطان کے حکم سے اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔نبی کریم (ﷺ) کی مہر سے بند ہے۔ و الحمد للہ۔

باب پنجم

محمد رسول اللہ (ﷺ) کا عالم عیسائیت کے لیے معاہدہ

مخطوط قاہرہ

اللہ تعالیٰ کے رسول محمد (ﷺ) کی طرف سے

اللہ خالق حی ناطق اور مخلوق کے فنا کے بعد باقی رہنے والی ذات کے نام سے آغاز

یہ اس معاہدہ کی نقل ہے جو جناب محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (ﷺ) نے

تمام عیسائیوں کے لئے تحریر کیا

معاہدہ کی نقل:

یہ معاہدہ اللہ کے رسول محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (ﷺ) نے تمام عیسائیوں اور راہبوں کے تحفظ کے لیے تحریر کرنے کا حکم صادرفرمایا ہے۔ کیونکہ وہ (عیسائی) اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کی امانت ہیں۔ یہ معاہدہ اس لیےہے تاکہ ان کے لیے دلیل ہو، اور پھر لوگوں کے لیے رسول کے بعد اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے اپنی طرف سے تحفظ اور ذمہ داری قرار دیا۔اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔۔۔اسے اسد اور اس کی ملت نے روئے زمین کے شرق و غرب ، دور و نزدیک، عربی و عجمی ، معروف و غیر معروف عیسائیوں کے لیے لکھا یہ آپ کی طرف سے معاہدہ اورعدل ہے۔ اس کی حفاظت ہو گی۔جس نے اس کی حفاظت کی وہ اسلام سے وابستہ اور اپنے دین پر کاربند ہے۔ اور جس نے اس عہد کو توڑا، رائیگاں کیاجس کا اللہ کے رسول نے پورا کرنے کا حکم دیا ہے، یا اس میں تبدیلی کی یا اس میں زیادتی کی جس کا اسے حکم دیا ہے، خواہ وہ سلطان ہو یا کوئی اور مسلمان مومن ہو،وہ اللہ کے عہد کو توڑنے ، اس کے دین سے استہزاءکرنے والا ہے، وہ لعنت کا مستحق ہو گا۔

میں بھی اسی عہد کا پابند ہوں جس کا اللہ کے عہد و میثاق کا میں انہیں پابند کر رہا ہوں اور میں انہیں اولین و آخرین انبیاءو اصفیاء، اہل ایمان و اسلام کی طرف سے حفاظت میں دیتا ہوں، یہ میری حفاظت میں ہوں گے۔

جس نے اس عہد کو توڑا، اس کی مخالفت کی، اور اللہ تعالیٰ کے عہد کے لیے جو اسے حکم دیا گیا ہے، زیادتی کا ارتکاب کیا،خواہ وہ سلطان ہو یا کوئی اور مسلمان مومن ہو،وہ اللہ کے عہد کو توڑنے ، اس کے دین سے استہزاءکرنے والا ہے۔

میں انہیں اپنے معاہدے اور دستاویزات دے رہا ہوں جن کی وہ مجھ سے اور تمام اہل اسلام سے درخواست کر رہے ہیں کہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق عطا کروں، اور اس کے اولین انبیاء، رسل، اصفیاءو اولیاءکی طرف سے حفاظت عطا کروں۔اطاعت شعاری اور فرض کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کے عہد کی وفاکے حوالے سے جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے کسی نبی مرسل پر ڈالی ہے ، میری ذمہ داری اور میثاق اس سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ میں اپنی قدرت ، گھڑ سواروں، جوانوں، ہتھیاروں اور قوت اور قریب و بعیدہر علاقے میں مسلمان پیروکاروں کے ساتھ ان کی زمینوں اور دین کی حفاظت کروں۔ اور ان کے کلیساؤں کی حفاظت کروں،اور ان سے تکالیف کا ازالہ کروں۔،گرجوں، عبادت گاہوں، راہبوں اور خلوت نشینوں کے مقامات ، وہ پہاڑ، وادی، غار یا آبادی، میدان و ریگستان ،عمارت جہاں بھی ہوں، حفاظت کروں ۔میں مشرق و مغرب میں جہاں بھی ہوںان کی اسی طرح حفاظت کروں گا جیسے اپنی ، اپنے خواص ، اور مسلمانوں کی حفاظت کرتا ہوں۔

میں ہر آن انہیں اپنی حفاظت و عہد اور امان میں رکھوں گا اور ان سے ہر قسم کی اذیت اور تکلیف کو دور کروں گا، میں ان کی ہر دشمن اور ضرر رساں سے ان کا دفاع کروں گا۔ ان کی خاطر اپنی ، اپنے معاونین ، پیروکاروں اور مسلمانوں کی تمام تر توانائیاں صرف کروں گا، کیونکہ وہ میری رعایا اور میری حفاظت میں ہیں۔ان سے مصائب کو اپنی حکومت کے ذریعے دور کروں گا۔ اور اسی طرح مجھ پر ان کی ہر شر سے رعایت وحفاظت ضروری ہے، انہیں کسی طرح کی کوئی تکلیف نہ پہنچے جبکہ میرے اصحاب کو پہنچ جائے جو ان سے دفع شر کرتے ہیں اور نصرت اسلام کے لیے کوشاں ہیں۔

میں انہیں خراج کی تکلیف سے بھی دور کروں گا جو ذمیوں پر لاگو ہوتا ہے، مگر یہ کہ وہ اپنی مرضی اور خوش دلی سے دیں۔اس سلسلے میں ان کے ساتھ کوئی سختی اور جبر نہیں ہو گااور نہ کسی اسقف کو اس کی عمل داری سے، کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے، کسی زائر کو اس کی زیارت سے نہ روکا جائے گا۔ نہ ان کے کسی گھر کو گرایا جائے گا، نہ ان کی عمارت کی چیز مساجد اور مسلمانوں کے گھر کی تعمیر میں استعمال کی جائے گی۔جس نے ایسا کیا تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا، اس کے رسول کی مخالفت کی، اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ سے روگرداں ہوا۔

اور یہ کہ راہبوں اور علماء(اسقفوں) ،عبادت گزاروں، درویشوں، یا پہاڑوں اور خلوت گزینوں، سے جزیہ اور خراج عائد نہیں کیا جائے گا۔

عبادت گزاروں، راہبوں اور خلوت نشینوں کے علاوہ عیسائیوں پر سالانہ چار درہم پر اکتفاءکیا جائے گا یا قیمتی کپڑے یا قیمت ادا نہ کرنے یا غلہ نہ دینے کی صورت میں اہل اسلام بیت المال سے اس کی مدد کریں گی۔اگر ان کے لئے غلہ دینا آسان نہ ہوتو ان سے معاف کر دیا جائے گا، اور ان پر یہ سب کچھ ان کی مرضی اور خوشی سے ہو گا۔

اور خراج ، جائیداد، اور خشکی و تری کی تمام تجارت کرنے والوں پر جزیہ کے حوالے سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔اور اپنی اقامت کے مقامات سے جواہرات، سونا ، چاندی نکالنے والوں اور دولتمندوں ، صاحب حیثیت عیسائی عوام سے بارہ نگینے سالانہ جزیہ سے زیادہ نہیں وصول کیا جائے گا۔ جبکہ وہ ان مقامات پر بسنے والے اور وہاں مقیم ہوں۔

مسافر، جو کسی خطہ اور گوشہ کے باسی نہیں ، نا معلوم مقام کے صاحب اختیار سے ، پر خراج ہو گا نہ جزیہ۔ مگر یہ کہ جن کے پاس زمین ہو گی صرف اسی پر خراج اور جزیہ لاگو ہوگا ، باقی پر نہیں۔ جو ان پر لاگو ہو گا اس میں حکمران کا بھی حق ہے، تو وہ اسے اسی طرح ادا کرے گا جس طرح وہ ادا کرتا ہے۔ اور ہر ایک سے اس کی بساط اور زمینداری کرنے کی طاقت، اس کی آباد کاری، اور بار آوری کے مطابق ہی واجب ہو گا۔انہیں ذرہ برابر بھی مکلف نہیں بنایا جائے گا، نہ خراج ادا کرنے کی حد سے تجاوز ہو گا۔

نہ کسی ذمی کو مسلمانوں کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی جنگ میں حصہ لینے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔ ذمیوں پر جنگ کرنا درست نہیں، وہ تو جزیہ ہی اس بات کا دیتے ہیں کہ ان پر یہ ذمہ داری نہ ڈالی جائے۔ مسلمان ان کا دفاع کریں گی، ان کی حفاظت کریں گی۔ اور مسلمانوں کی کسی جنگ کی تیاری میں انہیں مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جس میں وہ اپنے دشمن سے قوت و طاقت ، ہتھیاروں اور گھوڑوں سے نبردآزما ہوں گی۔ مگر یہ کہ وہ اپنی طرف سے رقم ادا کریں ،اور جو کچھ مسلمان ادھار ان سے لیں وہ محفوظ ہو گا ، انہیں واپسی تک بیت المال اس کا ضامن ہو گا۔اگر وہ فوت ہو جائے یا اس پر حملہ ہو جائے تو بیت المال سے اس کی تلافی ہو گی، اور یہ تلافی بذریعہ رقم ہو گی۔

کسی بھی عیسائی کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ” اوران سے عمدہ طریقے سے مناظرہ کرو۔“( النحل 16:125)ان کے ساتھ نرمی کا برتاو ہو گا، وہ ملک میں جہاں کہیں بھی بود و باش اختیار کریں گی، ان سے تکلیف دور کی جائے گی۔اگر عیسائیوں میں سے کسی نے جرم کا ارتکاب کیا ، تو مسلمانوں پر اس کی مدد ضروری ہو گی، اسے روکا جائے گا، اس سے دفاع کیا جائے گا۔ جرم کا ارتکاب کرنے پر ہرجانہ ہو گا۔اس کے درمیان اورمتاثرہ کے درمیان صلح کرائی جائے گی، یا تو وہ اسے معاف کر دے یا معاوضہ دیا جائے گا۔انہیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جائے گا ، نہ جدا کیا جائے گا، کیونکہ میں نے ان کے ساتھ اللہ کا عہد کیا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے لیے معاہدہ کی پاسداری ضروری ہے اسی طرح ان کے لیے بھی یہ پاسداری لازم ہے۔ اسی کی رو سے وہ ہماری حفاظت کے حق دار ٹھہرے ۔ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سے ہر تکلیف کو دور کیا جائی۔ان کے ساتھ نرم برتاو کیا جائے، اور حقوق و فرائض میں مسلمان شریک ہوں گے۔نکاح کے سلسلے میں ان کی مرضی کے خلاف کوئی زبردستی نہیں ہو گی، ان کی بیٹیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شادی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ منگنی نہ کرنا چاہیں یا شادی سے انکار کر دیں تو انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا کیونکہ یہ رضامندی و خواہش کے بغیر کسی طرح درست نہیں۔

اگر کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان کے نکاح میں ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی نصرانیت کا احترام کرے، اپنے مذہبی پیشواوں کی پیروی کرنے میں اس کی خواہشات اور مرضی کو مدنظر رکھے، اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے دے، جس نے اسے دینی حوالے سے مجبور کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے ، اور رسول خدا(ﷺ) کے معاہدہ کا نافرمان ہوگا۔اور ہمارے ہاں وہ جھوٹا ہو گا۔

اگر انہیں اپنے گرجوں اور کنیساؤں کی مرمت کے سلسلے میں، یا اپنے معاملات یا دینی مفادات کے حوالے سے مسلمانوں کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہو گی کہ وہ ان کی مرمت کے سلسلے میں ان کے دست و بازو بنیں، ان کی مالی امداد اور تعاون کریں۔یہ ان پر کوئی قرض نہ ہو گا بلکہ ان کے دینی مفادات و مصالح کی تقویت و مضبوطی کے لیے ہو گا۔رسول اللہ (ﷺ) کے عہد کی پاسداری و وفا ہو گی، ان کے لیے عطیہ ہو گا۔ان پر اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اور رسول اللہ (ﷺ) کے حق کا ذمہ ہے۔

اور ان میں سے کسی کو مسلمانوں و اعدائے اسلام کے ما بین جنگ یا جنگ سے متعلق امورمیں قاصد، معاون یا مخبر کی ذمہ داری نہیں سونپی جائے گی۔ جس نے ان میں سے کسی کے ساتھ ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادتی کرنے والااور اس کے رسول کا نافرمان ہو گا۔اور دین سے دستبردار ہونے والاہو گا۔مگر یہ کہ وہ ان شرائط کو پورا کرے جو اللہ تعالیٰ کے رسول محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے عیسائیوں کے لیے طے فرمائی ہیں۔

ان کے لیے ان کے دین کے بارے میں کچھ ایسے امور شرط قرار دیئے ہیں جن کا مضبوطی سے تھامنا اور پورا کرنا واجب ہے۔ کہ ان میں سے کوئی بھی علی الاعلان یا خفیہ طور پر مسلمانوں کے خلاف جنگی دشمن کی طرف سے جاسوس نہیں بنے گا،نہ اپنے گھروں میں مسلمانوں کے دشمن کو پناہ دے گا،نہ اپنے علاقوں میں جگہ دیں اور نہ اپنی عبادت گاہوں میں،نہ مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار دشمنوں کی ہتھیاروں، گھوڑوں،اور افرادی قوت سے مدد کریں، غیر ضروری مطالبات سے گریزاں رہیں،نہ ان کو تنگ کریں، اور جب تک وہ ان کی سرزمین میں رہیں، ان کی عزت کریں جب تک وہ اپنے دین پر برقرار رہیں، اپنی ذمہ داری کی پاسداری کریں۔ اگر مسلمانوں میں سے کوئی ان کے پاس مہمان بن کر آ جائے تو تین دن تک وہ جہاں بھی جائیں،ان کی مہمان نوازی کریں۔ان کی ایسے کھانوں سے مہمان نوازی کریں جیساخود کھاتے ہیں۔ان کی خاطر کوئی تکلف نہ کریں جس کی وجہ سے انہیں پریشانی اور بوجھ کا سامنا کرنا پڑے۔

اگر کسی مسلمان کو ان کے ہاں، ان کے گھروں، عبادت گاہوںمیں چھپنے کی ضرورت پیش آئے تو اسے پناہ دیں۔ان کے ساتھ تعاون کریں، ان کے چھپنے کی مشقت و تکلیف میں ان کی چارہ سازی کریں۔جب وہ چھپیں تو انہیں دشمن پر ظاہر نہ کریں، اپنےفرض کو نبھائیں۔

جس نے ان شرائط میں سے کسی شرط کو توڑایا تبدیل کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کا عہد توڑا۔

اور ان پر ان معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے جو راہبوں سے کیے ہیں،وہ جہاں بھی ہوں، میری طرف سے انہیں مکمل تحفظ کی ضمانت ہے۔اور رسول خدا (ﷺ) کے لیے ان کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کی وفا ضروری ہے ، اور تمام اہل اسلام پر قیامت اور دنیا کے ختم ہونے تک ان کی حفاظت اور حسن سلوک و مہر و محبت ضروری ہے

اس معاہدہ کو جواللہ کے رسول محمد بن عبد اللہ (ﷺ) نے اپنے اور عیسائیوں کے ما بین لکھاجن پر شرائط لاگو ہیں ، اوریہ معاہدہ ان کے لیے تیس گواہان کی موجودگی میں تحریر فرمایا۔ وہ گواہ یہ ہیں:۔

ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب،ابوذر، ابو الدرداء، ابوہریرہ، عبد اللہ بن مسعود،عباس بن المطلب، فضل بن عباس الزھری، طلحہ بن عبد اللہ، سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ، ثابت بن قیس، یزید بن تلیت، عبد اللہ بن یزید، فرصوص بن قسیم بن بدر بن ابراہیم، امام بن یزید، سیل بن تمیم، عبد العظیم النجاشی، عبد العظیم بن حسین۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص، عمرو بن یاسر، معظم بن موسیٰ، حسان بن ثابت، ابوحنیفہ، عبید ابن منصور، ہاشم بن عبد اللہ، ابو العاذر، ہشام بن عبد المطلب۔

یہ معاہدہ علی بن ابی طالب نے لکھا۔ایک بڑی جلد میں مکتوب ہے۔ اور سلطان کے حکم سے اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔نبی کریم (ﷺ) کی مہر سے بند ہے۔ و الحمد للہ۔

یہ مبارک معاہدہ ۷۲ محرم الحرام ۵۴۹ ہجری کو لکھا گیا۔

یہ مبارک معاہدہ عظیم عالم فرمانروا شیخ سمعان اولاد شیخ فضل اللہ المعروف بہ البرلسی کی ملکیت ہے۔

ان حروف کا ناقل بندہ مسکین عصیاں شعار ان بردران سے التماس کرتا ہے جو بھی اس معاہدے سے آگاہ ہو ، کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھے اور خداوند انہیں ایک کے بدلے ایک سو تریسٹھ نیکیاں عطا فرمائے۔

باب ششم

حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کا اشوریہ کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ

1910ءمیں جارج ڈیوڈ مالچ کا نقل کردہ ترجمہ

اللہ تعالیٰ نے خواب میں مجھے بتایا کہ میں کیا کروں اور میں نے اس کے حکم کو اپنے سچے وعدے کے ذریعے یقینی بنایا کہ میں معاہدے کو برقرار رکھوں گا۔ اسلام کے پیروکار وں کے لیے میں کہتا ہوں:

میرے حکم پر چلو ، ہمارے اس ملک میں ان کی زمین پر نصرانی قوم کی مدد اور حفاظت کرو۔ ان کی عبادت کی جگہوں کو پر امن رہنے دو،ان کے سردار اور پادریوں کو جب مدد کی ضرورت ہو تو ان کی مدد کرو اور اپنا تعاون پیش کرو خواہ یہ پہاڑوں میں ہو، صحرا میں ہو، سمندر پر ہو یا گھر پر ہو۔ ان کی مملوکہ تمام چیزوں کو چھوڑ دو، مکان ہوں یا دوسری جائیداد، ان سے متعلقہ کسی چیز کو خراب نہ کرو۔

اسلام کے پیروکار اس قوم کے کسی فرد کو نقصان پہنچائیں گے نہ آزار دیں گے کیوں کہ نصرانی میری رعایا ہیں ، وہ مجھے خراج پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں کے مدد گار ہوں گے۔

خراج کی جس رقم پر اتفاق ہوا بس ان سے وہی لی جائے گی ،ان کے کلیسا کی عمارتوں کو ان کی اصل حالت میں برقرار رکھا جائے گا۔

ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان کے پادریوں کو اجازت ہو گی کہ وہ ان کو تعلیم دیں اور اپنے طریقے سے عبادت میں حصہ لیں۔عیسائیوں کو اپنے گھروں اور کلیساؤں میں عبادت کی پوری آزادی ہے۔

ان کے کسی کلیسا کو نقصان پہنچا یا جائے گا اور نہ ہی مسجد میں تبدیل کیا جائے گا سوائے اس صورت کے کہ نصرانی اپنی آزادانہ رائے اور مرضی سے اس بات کی اجازت دیں۔ اگر کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) اس سے ناراض ہوں گے۔

نصرانیوں کے ادا کردہ خراج کو بیت المال میں جمع کرکے اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ایک عام آدمی ایک دینار ادا کرے گا لیکن تاجر اور وہ لوگ جو سونے اور چاندی کی کانوں کے مالک اور امیر ہیں، وہ بارہ دینار ادا کریں گے۔ اجنبیوں اور ان لوگوں سے جن کے پاس مکان یا دوسری کوئی غیر منقولہ جائیداد نہ ہو ان پر کوئی خراج عائد نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک آدمی کو جائیداد وراثت میں ملتی ہے تو وہ ایک طے شدہ رقم بیت المال کو ادا کرے گا۔

عیسائیوں کو اسلام کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن اگر ایک دشمن عیسائیوں پر حملہ کرتا ہے تو امتِ محمدیہ ان کی مدد سے انکار نہیں کرے گی بلکہ اگر ان کوضرورت ہو تو ان کو گھوڑے اور ہتھیار فراہم کریں گے اور باہر سے آنے والے ہر خطرے سے ان کی حفاظت کرو اور ان کے ساتھ امن کی فضا برقرار رکھو۔ عیسائیوں کو جبراً مسلمان نہ بناؤحتی کی اللہ تعالیٰ کی منشاءانہیں ایمان کی توفیق عطا فرما دے۔

پیرو ان محمد(ﷺ) عیسائی عورتوں کو قبول اسلام کے لیے مجبور نہیں کریں گے لیکن اگر وہ خود اسلام قبول کرنا چاہیں تو محمد (ﷺ) کے پیروکار ان کے ساتھ مہربانی کاسلوک کریں گے۔

اگر ایک عیسائی عورت کی شادی ایک مسلمان سے ہوئی ہے اور وہ اسلام قبول کرنا نہیں چاہتی تو اس کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے کلیسا کی رسوم اور مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کری، اور اس کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس کے مذہب کی وجہ سے اس کے ساتھ نامہربان سلوک نہ کرے۔

اگر کوئی اس حکم سے سرتابی کرتا ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ ایک بڑے گناہ کا قصور وار ٹھہرے گا۔ اگر نصرانی ایک کلیسا کی تعمیر کرنا چاہیں تو ان کے مسلمان ہمسائیوں کو چاہیے کہ ان کی مدد کریں۔ ایسا ضرور کیا جائے گا کیوں کہ عیسائیوں نے ہماری فرماں برداری کی ہے اور وہ ہمارے پاس امن اور مہربانی کی درخواست لے کر آئے ہیں۔ اگر عیسائیوں کے درمیان ایک عظیم اور صاحب علم آدمی موجود ہو تو پیروان محمد (ﷺ) اس کا احترام کریں گے اور اس کی عظمت سے حسد نہیں کریں گے۔ اگر کوئی ایک فر د عیسائیوں کے لیے ناانصاف اور نامہربان ہے تو وہ اللہ کے رسول (ﷺ) کی نافرمانی کا مرتکب ہو گا۔ عیسائیوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کے کسی دشمن کو پناہ ، گھوڑا، ہتھیار، یا کسی بھی طرح کی مدد فراہم نہ کریں۔

اگر محمد(ﷺ) کے کسی پیروکار کو ضرورت پیش آجائے تو ایک عیسائی کو چاہیئے کہ وہ تین دن رات تک اس کی میزبانی کرے اور اس کے دشمنوں سے اسے پناہ دے۔عیسائیوں کی مزید ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مسلمان خواتین اور بچوں کی حفاظت کریں گے اور انہیں دشمن کے حوالے کریں گے نہ ان کے پناہ گزین ہونے کو ظاہر کریں گی۔ اگر نصرانی ان شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ اپنا(مسلمانوں کے ) زیرِ تحفظ رہنے کا حق کھو دیں گے اور معاہدہ منسوخ ہو جائے گا۔

یہ مسودہ بحفاظت رکھنے کے لیے عیسائی سردار اور کلیسا کے اسقف کے سپرد کیا جائے گا۔

دست خط:

ابو بکر الصدیق / عمربن الخطاب / عثمان بن عفان     علی ابن ابی طالب / معاویہ بن ابی سفیان / بوالدرداء   

ابو براح / ابو ذر/ عبداللہ بن العباس/ عبداللہ بن مسعود

 / فضل بن عباس / حمزہ بن عبدالمطلب / طلحہ بن عبداللہ / لزبیربن العوام / سعد بن عبادہ / ۔سعد بن معاذ

۔یزیدبن ثابت     ثابت بن قیس / سھل بن صوفیہ (یا صیفہ) / عبداللہ بن یزید / داود بن جبیر/ عثمان ابن مطعون / عبداللہ بن عمرو بن القاضی/ ابوالعالیہ / طلحہ بن عبداللہ بن بدیعہ / ابو حذیفہ ابن عبیر/ ہاشم ابن عصیہ / عمار بن یاسر بن ربیعہ / حسان بن ثابت / ۔کعب بن کعب / ۔کعب بن مالک / جعفر بن ابی طالب / رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

اللہ کےرسول حضرت محمد(ﷺ) کے عالمِ عیسائیت کے ساتھ

معاہدات

(از ڈاکٹر جوہن اندرو مورو)

تصدیقات

۱۔ امام فیصل عبدالروف، چیئرمین قرطبہ انیشی ایٹو:

اس تحریر میں اتنی قوت ہے کہ یہ امتِ مسلمہ اور عالمِ عیسائیت کو باہم متحد کردی۔ یہ ایک عالمانہ تحریر ہے، اس کا طبع ہونا بروقت ہے اور اس کے مشمولات باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

۲۔ جوزف ہابز، میسوری یونیورسٹی:

ابراہیمی عقیدے کے مطالعے کے لیے اپنی ناگزیر کوشش میں جوہن اندرو مورو اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کی داستان سناتے ہیں کہ کس طرح آپ اپنے صحرائی مہمان نوازی اور تحفظ کے تجربات کو استعمال کرکے اُمت مسلمہ اور عالمِ عیسائیت کو قریب لے آئے۔ مورو اﷲ کے رسول (ﷺ) کا یہ فرمان ”اہلِ کتاب کے ساتھ (ہمارا) کوئی جھگڑا نہیں“ نقل کرکے اسے موجودہ دور کے ساتھ اتنا ہی متعلق قرار دیتے ہیں جتنا یہ آپ کے زمانے میں تھا۔

۳۔ اومد صفی، نارتھ کیرولینا یونی ورسٹی:

آج ہم ہمیشہ سے زیادہ اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ یا تو ہمیں ایک ہی والدین کی اولاد کی طرح مل جل کر رہنا سیکھنا ہوگا یا ہم عاقبت نااندیش لوگوں کے طرح فنا کی گھاٹی اُتر جائیں گے۔ اﷲ کے رسول حضرت محمد(ﷺ) کے عیسائی اقوام کے نام یہ خطوط مسلمانوں اور عیسائی دونوں میں ہماری اس صلاحیت کو اُبھار سکتے ہیں کہ ہم اﷲ کے بندوں، دوستوں، ہمسائیوں اور ایک ہی چھوٹے سے سیارے کے نگران ہونے کی حیثیت سے اکٹھے مل کر زندگی بسر کرسکتے ہیں۔

۴۔ آیدا گیسی موووا، باکو سٹیٹ یونی ورسٹی:

”اﷲ کے رسول حضرت محمد(ﷺ) کے معاہدات“ ان تمام لوگوں کے لیے ایک مفید مصدر ہے جن کی دل چسپی عالمِ اسلام کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ اور اسلام اور عیسائیت کے درمیان ثقافتی تعلقات میں ہے۔ برداشت، خلوص اور مختلف تہذیبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور مضبوطی کے لیے یہ بہت مددگار ہوں گے اور مزید مطالعے کے لیے یہ نئے آفاق کو ہمارے سامنے کھولتا ہے۔

۵۔ عمار سلام، محمد اول یونی ورسٹی:

اس عدیم النظیر کام میں لگن کے ساتھ کی جانے والی کوشش اور خود سپردگی کی شمولیت نے پروفیسر مورو کو یقینا اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ علوم اسلامیہ کے طلبہ اور محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالیں۔ دراصل یہ کتاب تین الہامی ابراہیمی عقاید یعنی عیسائیت، یہودیت اور اسلام کے درمیان تعلقات کو نئے انداز میں مطالعہ کرنے کی ضرورت کی طرف ایک خالص ندا ہے۔

۶۔ کیرن لیزلی ہرنینڈز:

جوہن اندرو مورو کا کام ”اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے دنیائے عیسائیت کے ساتھ معاہدات“ ایک دل فریب اور پُرکشش تحریر ہے۔

۷۔ اینا ماریا مار ٹیلی:افریقہ اور ایشیاءکے لئے اطالوی انسٹیٹیوٹ

جو معیار ان معاہدات نے قائم کیا ہے وہ نہ صرف اﷲ کے رسول (ﷺ) کے زمانے سے زیادہ ترقی یافتہ تھا بلکہ ہمارے زمانے سے بھی آگے ہے۔

۸۔ بریجٹ بلوم فیلڈ، یونی ورسٹی آف نبراسکا:

یہ کتاب ممکنہ طور پر اسلام کے تیسرے بنیادی مصدر کا دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہے یعنی اﷲ کے رسول (ﷺ) کے ابراہیمی عقائد کو ماننے والے لوگوں کے ساتھ سمجھوتے اور معاہدات۔ ڈاکٹر مورو انتہائی اہم نتائج کو سامنے لاتے ہیں جس سے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے اصول واضح ہوتے ہیں۔ اﷲ کے رسول (ﷺ) اور آپ کے صحابہ نے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ معاملات کو جس احترام اور احتیاط کے ساتھ انجام دیا وہ جذبہِ رواداری سے بھی اعلیٰ و ارفع جذبہ ہے۔ ان معاہدات کے کثیر لسانی تراجم اور مماثلتوں کی طرف بھی ڈاکٹر مورو نے اشارہ کیا ہے۔

۹۔ ہشام ایم رمضان، ایس۔ جی۔ڈی کوانٹلن پولی ٹیکنیک یونی ورسٹی:

ان معاہدات کی حیثیت صرف تاریخی دستاویزات ہی کی نہیں ہے بلکہ یہ آج بھی نافذ العمل ہیں اور تمام مسلمانوں کے لیے آغازِ اسلام سے قیامت تک کے لیے باہم پیوست رکھنے والے معاہدات ہیں۔ ڈاکٹر مورو کے کام نے اسلام کے اس بین الاقوامی قانون کے_____ جس کا تعلق عام لوگوں سے ہے ____ ایک نئے اُفق کو روشن کردیا ہے اور یہ ان معاہدات سے متعلق مزید علمی تفتیش کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

۰ ۱۔ محمد الکوشی، محمد اول یونی ورسٹی:

”اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے معاہدات“ ایک بروقت، اختراعی، اور گہرے مطالعے کا نتیجہ ہیں جو اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے افکار اور حکمت عملی پر کافی روشنی ڈالتے ہیں۔

۱۱۔ محمد رضا فخر روحانی، قم یونی ورسٹی:

یہ ایک غیر معمولی اور فاضلانہ مضمون ہے یعنی اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے معاہدات کا مجموعہ، جسے اب بڑے پیمانے پر عام کیا جا رہا ہے۔ یہ آپ کے خطبات کا جزوِ لازم ہیں کیوں کہ ان کا تعلق غیر مسلموں خاص طور پر عیسائیوں سے ہے۔

۲ ۱ ۔ سعید منتاک، محمد اول یونی ورسٹی:

ڈاکٹر مورو کلاسیکی عربی میں اپنی مہارت اور میراثِ اسلامی کے ہمہ جہت علم کے ساتھ بے تکلفانہ اور بے خوف طریقے سے اسلام میں دل چسپی رکھنے والے تمام علماءکو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ایک ایسے مذہب پر غور و خوض کریں جو گفت و شنید اور باہمی افہام و تفہیم کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کی کتاب کھلا ذہن رکھنے والے ہر قاری کی الماری میں ہونی چاہیے جو اسلام کے متعلق سچائی کا متلاشی ہے۔

۳ ۱ ۔ باربرا کیسل ٹن، شریک مصنفہ Arabic, Islam and The Allah Lexicon:

جوہن اندرو مورو نے اس کتاب کے ساتھ وہی کچھ کیا جو مارٹن لوتھر کنگ جونئر نے اپنے ”برمنگھم جیل سے خط“ میں کیا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنی منزل مقصود سے بھٹکنے کی توجیہہ کریں یا اس کا سبب بتائیں۔ مورو کہہ رہے ہیں، یہ اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدات ہیں۔ انہیں پڑھیے! ان کا احترام کیجئے اور اﷲ کے رسول (ﷺ) کے مقصد کا احترام کیجئے۔

۴ ۱ ۔ کریگ کونسی ڈائن، ہوفنگٹن پوسٹ:

یہ ایک بہت عمدہ علمی کارنامہ ہے۔

۵ ۱ ۔    ڈان ولکنسن:

”اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے دنیائے عیسائیت کے ساتھ معاہدات“ ایک فکر انگیز، زود فہم اور فاضلانہ مقالہ ہے۔ اسلام کو ایک ایسے مذہب کی حیثیت سے سمجھنے میں، جو عزت کرنے اور برداشت کرنے کے نظریے پر قائم ہوا یہ ایک اہم شہادت فراہم کرتا ہے۔

معاہدات: پہلا قدم

بربریت نے دنیا کو تباہ کردیا ہے، اس کی مخالفت اور اس کے ردّ میں دل چسپی رکھنے والے مسلمانوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاناچاہا جو اﷲ کے رسول (ﷺ) کے دنیائے عیسائیت کے ساتھ معاہدات کی اشاعت سے سامنے آیا۔ یہ معاہداتِ نبوی (امن عالم کے لیے) پہلا قدم ہیں۔ یہ پہلا قدم تمام مسلمانوں یعنی سنی، شیعہ اور صوفی، تمام فقہی مسالک اور روحانی سلسلوں سی، جن میں علماءاور غیر علماءسب شامل ہیں، کو دعوت دیتا ہے کہ وہ درج ذیل اعلامیہ کے آخر میں اپنے نام درج کریں۔

”ہم زیر دست خطی اپنے آپ کو اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے دنیائے عیسائیت کے ساتھ معاہدوں کا خود کو ان کی روح اور الفاظ کے مطابق پابند بناتے ہیں۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ یہ معاہدات، اگر انہیں اصلی اور حقیقی مان لیا جائے تو شریعت میں ایک قانون کی طاقت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ روایات میں درست طور پر وضاحت کی گئی ہے، شریعت میں کوئی چیز ایسی نہیں جس نے کبھی ان سے اختلاف کیا ہو۔

پرتشدد لادینیت کی روح اور جھوٹی مذہبیت جو دنیا میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے اور دہشت گردی اور بے دینی کا مشترک نشانہ ہونے کی وجہ سے،ہم، عیسائی ہونے کی وجہ سے آپ کے مصائب کو سمجھتے ہیں۔ ان مصائب کی وجہ سے جو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمیں جھیلنا پڑتے ہیں۔

دعا ہے کہ تمام رحم فرمانے والوں سے بھی زیادہ شفقت فرمانے والا ،متقی اور معصوم لوگوں کے مصائب کو نگاہِ شفقت سے دیکھے۔ وہ ہمیں مضبوط بنا دے، اس کی مشیت کے سامنے پوری طرح سرافگندہ ہوتے ہوئے، اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے دنیائے عیسائیت کے ساتھ ہونے والے معاہدات کی ان کے الفاظ اور روح کے مطابق، عیسائیوں کے ساتھ اپنے تمام معاملات میں ان کی پیروی کرنے کے لیے۔ اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت ہی مہربان، نہایت رحم فرمانے والا، تمام تعریفیں اس اﷲ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا اور برقرار رکھنے والا ہے۔

ہم نے اس، اعلامیے، تصدیقات اور ان کے ساتھ ساتھ اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے دنیائے عیسائیت کے ساتھ ہونے والے معاہدات کی نقول جو ہمیں موصول ہوئی ہیں، کو مشرقِ وسطی، افریقہ اور دنیا کے دوسرے حصوں کے مسیحی رہنماوں کو بھیج چکے ہیں۔ اب ان میں سے بہت سوں کے مذہبی گروہ مسلم انتہا پسندوں کے شدید حملوں کی زَد میں ہیں۔ ماضی میں اسلام کے نام پر ہونے والی بمباری اور قتلِ عام کے تناظر میں، ان کے ساتھ ساتھ دوسرے جو _____ اﷲ نہ کرے _____ مستقبل میں ہوسکتے ہیں۔ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اگر کبھی ایسا وقت آیا کہ مسلمانوں کو اسلام پسند دہشت گردی کی نمو پاتی ہوئی اس پہچان کو ختم کرنے کے لیے جو اقوام کی غیر مسلم آبادیوں کے ذہنوں میں موجود ہے، کچھ کرنے کی ضرورت پڑی۔ پچھلے دو سو سالوں میں مغربی دنیا کے ساتھ ہونے والے ہر ٹاکرے میں اسلام نقصان ہی اُٹھاتا رہا اور موجودہ دور میں بیرونِ خانہ اور درون خانہ دونوں طرف سے اسلام سخت گیر حملوں کی زد میں رہا ہے۔ پھر کیوں مسلمان، ہم عصر عیسائیوں کے مصائب کی طرف عوامی توجہ مبذول کرانے کے لیے بات کرتے ہیں؟ ایک وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے شریکِ غم کے لیے دردمندی کا اظہار ایک طاقت ور اور شریفانہ عمل ہے جنہیں خود دردمندی کی شدید ضرورت ہو، ۔ وہ جو مطالبات لے کے آئے ہیں وہ لوگوں کو خود سے پرے دھکیل دیتے ہیں اور وہ جو نفرت کے ارادے کے ساتھ آتے ہیں، انہیں قریب کردیتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے ایک مرتبہ پھر یہ وقت آگیا ہے کہ وہ صرف احتجاج سے آگے بڑھیں، ”لیکن ہم سب دہشت گرد نہیں ہیں“ _____ یہ ایک ایسا قول ہے جس کے اندر اپنے تمام تر واضح خلوص کے باوجود، بہت سارے غیر مسلموں کے لئے اپنے مفاد کو مقدم رکھنے والا ایک حلقہ محسوس ہوتا ہے خواہ اس پر یقین کیا جائے یا یقین نہ کیا جائے _____ ایک توانا، پیش قدمی پر مبنی عوامی نقطہِ نظر پُرامن عیسائیوں کی حمایت میں اختیار کریں، حال ہی میں جن پر بہت زیادہ بھٹکے ہوئے کچھ مسلمانوں کے طرف سے حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ انہوں نے اﷲ کے رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے نام پر کیا، جس کی بنیاد نئی دریافت شدہ دستاویزات پر ہے جس نے ان کے ادا کردہ الفاظ کو محفوظ کردیا ہے۔

اس منصوبے کے ان شاءاﷲ تین اچھے اثرات مرتب ہوں گی، جن کو اہمیت کے حوالے سے ہم یوں ترتیب دیں گی:

۱۔    جس طرح ہم کسی اور چیز کا تصور نہیں کرسکتے (اسی طرح) یہ مسلمانوں کو ایک مثبت روشنی میں ان لوگوں کے سامنے پیش کرے گا جو ابھی انسانی احساسات کے حامل ہیں۔

۲۔    یہ کچھ زندگیوں کو بچا سکے گا۔

۳۔    اﷲ تعالیٰ کی نظر میں یہ کام لائقِ عمل ہے۔

اﷲ تعالیٰ کی واضح ہدایت کے مطابق جیسا کہ اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) نے ہم تک پہنچایا۔ ”امن“ سلامتی کےاحساسات کو پیدا کرنے سے یامنتخب پُرامن اجتماعات میں شرکت سے نہیں پیدا ہوتا۔ یہ اختلاف کا سامنا کرکے اور اسے برداشت کرکے پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ اس دوران اﷲ کی یاد کو کبھی ترک نہیں کرنا۔ یہ بہت کم ہوتا ہے کہ جب حکمت عملی کا فائدہ، اخلاقی راست بازی، اور خدائی حکم بظاہر اکٹھا ہوجاتے ہیں تاکہ وہ ایک خاص لائحہ عمل کی طرف اشارہ کریں۔ ہمارا یقین ہے کہ معاہدات کا پہلا قدم عین اسی طرح کے اکٹھ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر آپ ایک مسلمان ہیں اور اﷲ کے رسول حضرت محمد (ﷺ) کے دنیائے عیسائیت کے ساتھ معاہدات The Covenants of the Prophet Muhammad with the Christians of the World. کو پڑھ کر آپ کا ضمیر متاثر ہوجاتا ہے ______ تو ہمیشہ یاد رکھیں کہ کوئی بھی آپ کے لیے یہ فیصلہ نہیں کرسکتا یا آپ کو کسی طرح مجبور نہیں کرسکتا، یہ بات بھی زیرِ نظر رہے کہ ”دین میں کوئی جبر نہیں ______ کہ آپ کا نام اس اقدام میں شامل ہوجائے۔